Palestinians concerned about Israeli draft bill to divide Al-Aqsa Mosqueتصویر سوشل میڈیا

رملہ: فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ میں زیر بحث قانون کے مسودے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ترکی، ملیشیا، انڈونیشیا اور مصر سے درخواست کی کہ اس بل کو قانون بننے سے روکنے کے لیے مدد اور فلسطین کی حمایت کریں۔فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے لیکود پارٹی کے رکن امیت حلوی کی طرف سے پیش کردہ بل کو آنے والے دنوں میں اسرائیلی کنیسٹ میں پیش کرنے کے خلاف اسرائیلی حکام کو انتباہ دیا۔

ان کا یہ تبصرہ رملہ میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے زبردست غصہ پھوٹ پڑے گا جس کے نتائج کیا بر آمد ہوں گے اس کا اندازہ فلسطینی عوام، عربوں اور مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ کے تقدس اور مذہبی حیثیت کی وجہ سے نہیں لگایا جا سکتا۔

انہوں نے اس ضمن میں عرب، اسلامی اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ٹھوس اور موثر اقدام پر زور دیا جو مذمت سے بالاتر ہو اور محض مذمت کرنے کے بجائے ایسی پابندیاں عائد کی جائیں جس سے مسجد اقصیٰ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو روکا جا سکے۔بل کے مسودے میں مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *