Parliament and Supreme Court face to face in Pakistan, the conflict will damage democracyتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد،(اے یو ایس ) پاکستان میں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان ملک میں انتخابات کی تاریخ اور عدالتی اصلاحات بل کے معاملے پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں جہاں پارلیمان پر تنقید ہو رہی ہے تو وہیں پارلیمنٹ سے بھی اس پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔عدالت عظمیٰ میں ججز نے اپنے ریمارکس میں سیاست دانوں کو موجودہ سیاسی بحران کا ذمے دار ٹھہرایا تو پارلیمان میں حکومتی رہنماؤں نے ادارے کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے اختلاف کررہے ہیں۔ ایسے میں اداروں کو اپنی حدود کا خیال رکھنا ہوگا وگرنہ دونوں اداروں کے ٹکراو¿ سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہوتے جارہے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو براہ راست مخاطب کرکے ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیردفاع خواجہ آصف نے تقریر کرتے ہوئے سپریم کورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ عدلیہ اپنی تاریخ کا حساب دے اور ججز اپنی حدود میں رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، وہ وقت گیا جب وزیراعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا، آئین شکنی پر انگوٹھے لگانے والوں کی باقیادت کو یہاں بلائیں۔خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر ایوان کی کمیٹی بنائیں اور عدلیہ کے تمام فیصلوں کا ٹرائل کیاجائے ،اگر عدالتِ عظمیٰ پارلیمنٹ سے پروسیڈنگ مانگتی ہے تو پھر ہمیں بھی اپنی پروسیڈنگ دیں۔آزادررکن اسمبلی اسلم بھوتانی کا کہنا تھاکہ جب عدالت نے کارروائی مانگی تو مجھے تکلیف ہوئی ،وہ کون ہوتے ہیں ہمیں بلانے والے، پارلیمان کو چاہیے کہ وہ ان کو کورا کورا جواب دے دیں کہ ہم کارروائی نہیں دیں گے، آپ کو جو کرنا ہے کرلو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *