Plea in Pakistan to prove Bhagat Singh's innocenceتصویر سوشل میڈیا

لاہور: برطانوی پولس افسر جان سانڈرس قتل کیس میں یہاں کے انار کلی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف 1928میں درج کی گئی ایف آئی آر مل گئی ہے، یہ آراکئیوز میں سے نکالی گئی ایک اہم دستاویز ہے جو شہید بھگت سنگھ کو اس قتل کیس میں بے قصور ثابت کرتی ہے۔اس ایف آئی آر میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے نام بھی نہیں ہیں۔انگریزوں کے خلاف لڑنے والے اس بہادر کو قانونی طور پر بے قصور قرار دلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن زیر سماعت ہے۔لاہور پولس نے ہائی کورٹ میں وہ ایف آئی آر پیش کر دی ہے جس میں1928میں ایک انگریز افسر کے قتل پر درج کی گئی تھی۔ اور اسی مقدمہ میں تحریک آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں سکھ دیو اور ارج گوروکو سزائے موت دی گئی تھی۔

ایف آئی آر بھگت سنگھ میموریل فاو¿نڈیشن کی درخواست پر جاری کیے گئے عدالتی حکم پر پیش کی گئی ہے۔یہ ایف آئی اردو میں لکھی گئی جس میں دو نا معلوم حملہ آوروں سے متعلق ہےجس میں ایک پولس اہلکار مدعی ہے۔یہ ایف آئی آر 17دسمبر1928کو شام سات بجے درج کی گئی تھی۔لیکن اس ایف آر میں کہیں بھی بھگت سنگھ ، راج گورو اور سکھدیو سنگھ میں سے کسی کو بھی نامزد ملزمان نہیں کیا گیا۔ان میں سے کسی کا بھی نام ایف آئی آر میں درج نہیں ہے۔ بھگت سنگھ میموریل فاؤنڈیشن نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ بھگت سنگھ اور ان کے دوستوں کو بے گناہ قرار دیا جائے۔

واضح ہو کہ گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا کے واٹس اپ پلیٹ فارم سے گردش کر رہے ویڈیو میں دو نیوز اینکروں کو امتیاز رشید قریشی نام کے ایک پاکستانی وکیل کا ،جنہوں نے بھگت سنگھ کو بے قصور قرا دلوانے کے لیے ایک عذر دار ی دائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، انٹرویو لیتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔قریشی پاکستان کے بھگت سنگھ میموریل فاو¿نڈیشن کے صدر ہیں۔ویڈیو کے مطابق قریشی نے لاہور سازش کیس کے حوالے سے بھگت سنگھ کے کیس کی تیزی سے سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی عدالت نے وکیل کی پٹیشن پر سماعت کرنا منظور کر لیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *