کابل:(اے یو ایس)کوویڈ19-سے متعلق پابندیوں کے باعث اپنے ملک واپس جانے میں مشکلات سے دوچار نیوزی لینڈ کی کنواری حاملہ رپورٹر 35سالہ شارلٹ بیلس نے ، جو افغانستان میں ماو¿ں اور شیر خواروں کے لیے نامساعد اور مشکل حالات کے حوالے سے رپورٹنگ کرتی رہی ہیں، افغانستان کی طالبان حکومت کی پیش کش کے بعد اپنی رہائش کے لیے کابل کو منتخب کیاہے۔واضح ہو کہ بیلس اپنے فری لانس پریس فوٹو گرافر جم ہیلبروک سے، جو بلجیم کا شہری ہے اور گذشتہ دو سال سے افغانستان میں اقامت پذیر ہے، اپنے پہلے بچے کی ماںبننے والی ہیں۔کنوار پن میں ہی ماں بننے کے باوجود انہیں افغانستان کی سخت گیر طالبان حکومت نے کابل میں قیام کی پیش کش کر دی۔ بیلس کو یہ معلوم ہونے کے بعد قطر چھوڑنا پڑا تھا کہ وہ ایک ایسے ملک میں حاملہ ہیں جہاں بغیرشادی سے بچے کو جنم دینا غیرقانونی ہے۔ لیکن طالبان نے افغانستان میں بچہ کی ولادت تک رہنے کی پیش کش کی ہے۔بیلس افغانستان میں گذشتہ سال الجزیرہ انگلش کے لیے کام کرتی رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ انھیں اس وقت تک حاملہ ہونے کا احساس نہیں ہوا تھا کہ جب تک وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع میڈیا کمپنی کے ہیڈ کوارٹرمیں تھیں۔قطرمیں غیرشادی شدہ حاملہ ہوناغیرقانونی ہے۔لہٰذا بیلس نے نیوزی لینڈ واپس جانے کی کوشش میں اپنے حمل کوچھپائے رکھا تھا لیکن کووِڈ-19 کی پابندیوں کی وجہ سے انھیں ملک میں داخلے سے انکارکردیا گیا۔انھیں بتایا گیا کہ وہ نیوزی لینڈ کے کووڈ-19 کے سخت سرحدی کنٹرول کے تحت استثنا کی اہل نہیں ہیں۔اس کے بعد انھوں نے طالبان کے سینئرلیڈروں سے فون پر رابطہ کیا۔اس پرانھیں بتایا گیا کہ وہ افغانستان میں بچے کو جنم دے سکتی ہیں۔طالبان نے انھیں جو کچھ کہا تھا،اس کے بارے میں بیلس نے نیوزی لینڈ ہیرالڈ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ”ہم آپ کے لیے خوش ہیں، آپ آ سکتی ہیں اور آپ کویہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔آپ فکر نہ کریں۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا“۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ میری ضرورت کے وقت نیوزی لینڈ میں میری اپنی حکومت نے کہا کہ آپ کا یہاں خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ”جب طالبان آپ کو حاملہ اورغیرشادی شدہ عورت ہونے کے باوجود محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کی صورت حال خراب ہے“۔بیلس نے ایک بار طالبان سے سوال کیا تھا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کیا کریں گے؟مگر اب ان کا کہنا ہے کہ یہ”سفاکانہ ستم ظریفی“ہے کہ وہ اب اپنے ملک نیوزی لینڈ کی حکومت سے یہی سوال پوچھ رہی ہیں۔
اپنی صورت حال کے ساتھ عوامی سطح پرجانے اور وکلاءکو شامل کرنے کے بعد بیلس نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے حکام نے ان سے رابطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان کی مسترد شدہ درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ کے کروناوائرس رسپانس کے وزیرکرس ہِپکنز نے ہیرالڈ کو بتایا کہ ان کے دفتر نے حکام سے کہا ہے کہ آیا انھوں نے بیلس کے کیس میں مناسب طریق کار پر عملدرآمد کیا ہے؟ابتدائی طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ کرونا وائرس کی اومیکرون شکل کے پھیلنے کے بعد نیوزی لینڈ نے حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آنے والے شہریوں کے داخلے میں آسانی پیدا کرنے کے منصوبوں کوختم کردیا ہے اور اس کے بجائے ہنگامی کیسوں کے علاوہ اپنی سرحدیں کسی بھی ایسے شخص کے لیے بند کردی ہیں جس کی قرنطینہ کی بکنگ پہلے سے موجود نہیں ہے۔گذشتہ برس شارلٹ بیلس نے الجزیرہ کے لیے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو رپورٹ کیا تھا۔تاہم انھوں نے بین الاقوامی توجہ اس وقت حاصل کی جب طالبان رہ نماؤں سے خواتین سے ان کے سلوک کے بارے میں سوال کیے تھے۔شارلٹ بیلس کابل میں اپنے مردساتھی کے ساتھ مقیم ہیں۔انھوں نے افغانستان سے انخلا کے لیے نیوزی لینڈ کے حکام سے رابطہ کیا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔
اپنے خط میں شارلٹ بیلس نے لکھا کہ وہ ستمبر میں قطر واپس گئی تھیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے پارٹنر سے حاملہ ہیں۔وہ نیویارک ٹائمز کے لیے بطور فوٹوگرافر کام کرتے ہیں۔ان کے بہ قول ان کا حمل سے ہونا ایک معجزہ ہے کیونکہ اس سے قبل ڈاکٹروں نے انھیں کہا تھا کہ وہ بچے پیدا نہیں کر سکتیں۔ وہ مئی میں بچے کو جنم دیں گی۔انھوں نے طالبان کے ایک سینیئر رکن سے رابطہ کیا تھا اور انھیں بتایا کہ ”وہ اور جم ہائیلبروک شادی شدہ نہیں لیکن ان کے ہاں بچہ ہونے والا ہے۔ میں نیوزی لینڈ نہیں جا سکتی۔ اگرمیں کابل آ جاو¿ں تو کیا ہمیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟“ انھوں نے کہا کہ آپ آ سکتی ہیں اور آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔بیلس کا کہنا ہے کہ انھوں نے الجزیرہ سے نومبر میں استعفا دے دیا تھا۔اس کے بعد وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ ان کے ملک بلجیم گئیں۔ وہ وہاں زیادہ دیرنہیں رک سکتی تھیں کیونکہ وہ وہاں کی رہائشی نہیں تھیں اور ان کے پاس اگر کسی دوسرے ملک کا ویزا تھا تو وہ افغانستان ہی تھا۔
تصویر سوشل میڈیا 