Protest in Iran enters into 4th week,army chief warns protestersتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری نے ستمبر کے وسط سے جاری احتجاجی مظاہروں میں شریک اپنے ہم وطنوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی ہر صورت بحال کر دیں گی۔ایران کی خبر ایجنسی ” فارس“ کے مطابق ہفتہ کے روز محمد باقری نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کو اس وقت مختلف شعبوں میں مشترکہ خطرات کا سامنا ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے تیاری کی اشد ضرورت ہے۔ فوجی سربراہ کا یہ بیان ان حالات میں سامنے آیا ہے جب 16 ستمبر کو خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں۔

اس احتجاج کے دوران سکول کی طالبات نےبھی حکومت مخالف نعرے لگائے۔ کارکنوں نے ہڑتالیں کیں اور پورے ایران میں جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔واضح رہے حجاب کی باپندی نہ کرنے پر ایران کی اخلاقی پولیس نے مہسا کو گرفتار کیا تھا۔لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کیلئے ایرانی حکام نے انٹرنیٹ سروس پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں تاکہ سکیورٹی کریک ڈاؤن کی تصاویر کو آگے پھیلنے سے روکا جا سکے۔ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سکیورٹی کریک ڈاو¿ن میں کم از کم 92 مظاہرین مارے گئے ہیں۔ اس کریک ڈاو¿ن کے باعث ایران کی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ایران مسلسل غیر ملکی طاقتوں پر احتجاج کو بھڑکانے کا الزام عائد کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے تہران نے کہا تھا کہ فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور ہالینڈ اور دیگر ملکوں کے 9 غیر ملکیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *