Protests in several cities in Europe against China hosting Olympics amid Uyghurs genocideتصویر سوشل میڈیا

بروسلز: دنیا بھر میں اویغور انسانی حقوق کے معاملے پر چین کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ اویغور نسل کشی کے معاملے پر ، برطانیہ سمیت کئی ممالک نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اسی سلسلے میں یورپ کے کئی شہروں میں چین کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے مسلم اقلیتوں پر مظالم کے خلاف سنکیانگ صوبے میں آئندہ سرمائی اولمپکس کھیلوںکے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

یلجیئمم اویغور ایسوسی ایشن نے تبت اور ہانگ کانگ کے گروپوں کے ساتھ مل کر بیجنگ سرمائی اولمپکس کے خلاف یورپی یونین کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا اور بروسلز میں چینی سفارت خانے تک احتجاجی مارچ بھی نکالا۔ اینٹورپ، برسبین، برلن، لوسرن اور لندن میں بھی چھوٹے مظاہرے کیے گئے۔ اس سے قبل بیلجیئم کے شہر اینٹورپ میں مقامی اویغور برادری نے چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغوروں کے خلاف بیجنگ کی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ آئندہ بیجنگ موسم سرما کے اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔

اینٹورپ میں اویغور کمیونٹی کے مقامی رہنماوں کی قیادت میںمظاہرین نے چین کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ چینی حکام کی جانب سے اویغور برادری کے خلاف تمام مظالم بند کیے جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے تمام یورپی ممالک سے بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ بتادیں کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس اس سال فروری میں ہوں گے اور امریکہ اور دیگر کئی ممالک نے اس تقریب کا بائیکاٹ شروع کر دیا ہے اور اس کے بائیکاٹ کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *