Putin's friends and enemies sent him piles of melons, a gift certificate for a tractor, and death wishes for his 70th birthdayتصویر سوشل میڈیا

ماسکو: جمعہ کو روسی صدر ولادی میر پوتین کو ان کی 70 ویں سالگرہ پر ان کے دوست انوکھے تحائف پیش کیے تو دشمن ممالک نے ان کی جلد موت کی خواہشات پیش کیں۔ سابق سوویت یونین کے کئی ممالک کے کئی رہنماو¿ں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے کونسٹنٹین محل میں ولادیمیر پوتین سے ملاقات کی۔اس دوران تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے روسی رہنما کو خربوزے اور تربوز کے کئی اہرام پیش کئے۔ جبکہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے پوتن کو ایک ٹریکٹر تحفے میں دیا اور اس کا سرٹیفکیٹ ان کے حوالے کیا۔ٹریکٹر سوویت دور سے ہی بیلاروس کا صنعتی فخر رہا ہے۔

تقریباً تین دہائیوں تک بیلاروس پر سختی سے حکومت کرنے والے لوکاشینکو نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے باغ میں ٹریکٹر کا جیسا ماڈل استعمال کرتے ہیں اسی طرح کا ماڈل انہو ںنے پوتین کو تحفے میں پیش کیا تھا۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ روسی صدر نے لوکاشینکو کے تحفے پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔واضح ہو کہ تاجکستان اور بیلاروس روس کے کچھ بقیہ اتحادیوں میں شامل ہیں، اور تینوں آزاد ریاستوں کی وسیع دولت مشترکہ کا حصہ ہیں، جو سابق سوویت ریاستوں کا مجموعہ ہے جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ تینوں علاقائی فوجی اتحاد اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم کے بھی رکن ہیں۔

پوتین کی سالگرہ کے موقع پر یوکرین کی وزارت داخلہ کے مشیر اور سابق نائب وزیر انتون یوریوچ ہیراشینکو نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ واقعی ناانصافی ہے – ایک خونخوار پاگل اپنے محلات میں اپنی 70ویں سالگرہ منا رہا ہے، مبارکباد کے ساتھ تحائف وصول کرتا ہے۔ اس نے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا، لاکھوں زندگیاں برباد کیں۔ اور وہ اور بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔ آپ اس کے لیے کیا خواہش کریں گے؟پوتین کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر یوکرین کے وزیر دفاع نے روسی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صدر ملک کا دورہ کر رہے ہیں، وہ اپنی فوج کے ساتھ ہیں، اور آپ کا لیڈر کہاں غائب ہے؟ یوکرین کے دفاعی رپورٹر نے ٹویٹ کیا کہ امید ہے، آج پوتین کی بطور روسی تاناشاہ آخری سالگرہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *