Raisi vows to pursue crackdown on protestersتصویر سوشل میڈیا

دوبئی:ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے حالیہ حکومت مخالف احتجاج اور مظاہروں میں، جس کی مغربی ممالک کی جانب سے چوطرفہ مذمت کی جارہی ہے، حصہ لینے پر ایک شخص کو پھانسی دیے جانے کے دو روز بعد جمعہ کو مظاہرین کے خلاف سلامتی کے قانون کے سختی سے نفاذ کا عزم کیا ۔22سالہ کرد ایرانی لڑکی مہسا امینی کی 16 ستمبر کو حراستی موت کے بعد پھوٹ پڑنے والے غم و غصہ اور احتجاجی مظاہروں کو1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں اسلامی حکومت کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرا دیاجارہا ہے۔

حکومتی ابلاغی ذرائع کے مطابق رئیسی نے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے سیکورٹی فورسز کی یاد میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قاتلوں کی شناخت، قانونی و عدالتی کارروائی اور سزا کا عمل عزم و استقلال کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ جمعرات کے روز ایران نے محسن شیکاری کو، جسے تہران میں ایک سیکورٹی گارڈ کو خنجر گھونپ کر زخمی کرنے اور ایک سڑک کی ناکہ بندی کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی، بدامنی پھلانے کے الزام میں گرفتار ہزاروں افراد میں سے پہلا شخص ہے جسے تختہ دار پر چڑھایا گیا ہے۔

حکومتی ذراائع ابلاغ نے ایک ویڈیا جار ی کیا جس میں اس کو بسیج ملیشیا کے ایک رکن کو چاقو مارنے اور اپنے ایک دوست کے ساتھ اپنی موٹرسائیکل سے سڑک کی ناکہ بندی کرنے کا اعتراف کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس کے گال پر خراشیں صاف نظر آرہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *