Republicans torch Biden paying Iran $6 billion for American hostages: 'a terrible deal'تصویر سوشل میڈیا

تہران(اے یو ایس )ایران نے چار امریکیوں کو جیل سے رہا کیا اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا، ان میں سے ایک کے اہل خانہ کے مطابق اس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے اور وہ ملک چھوڑ سکیں گے۔یہ پیش رفت اس معاہدے پر واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر تنقید کے درمیان سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا کہ جبکہ ہم ہمیشہ امریکی یرغمالیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں – لیکن اگر وہ حقیقت میں صدر بائیڈن کی جانب سے 6 ڈالر کی ادائیگی کے بعد رہا کیے گئے ہیں تو ایران کو اربوں کا تاوان دینا بزدلانہ فعل ہے۔”یہ خوشامد ایرانی حکمرانوں کو صرف مزید یرغمال بنانے اور اس سے ناجائز فوائد اٹھانے پر ابھارے گی۔ اس سے ایران کو ہمارے ملک پر حملہ کرنے، دہشت گردی کو فنڈ دینے اور روس کا بازو بننے کا حوصلہ ملے گا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صدر بائیڈن ایران کی دھنوں پر ناچنا بند نہیں کر دیتے اور فیصلہ کن جواب دینا شروع کر دیتے۔“نمازی خاندان کے وکیل کے مطابق قیدی سیاماک نمازی، عماد شرقی، مراد طہباز اور ایک چوتھے امریکی جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کو تہران کی ایون جیل سے ایک نامعلوم گھر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایک اور ذریعہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ پانچویں امریکی کو جیل کے آخری ہفتوں میں رہا کیا گیا اور اسے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

رائٹرز نے ایک باخبر ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی کوریا میں ایرانی فنڈز کے 6 ارب ڈالر غیر منجمد کرنے کے بعد ایران امریکیوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے گا۔ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت امریکہ میں زیر حراست متعدد ایرانیوں کو رہا کریں گے۔ معاہدے کے دونوں فریق ایران کو رقوم کی منتقلی سے متعلق معمولی تکنیکی مسائل پر بات کر رہے ہیں۔وائٹ ہاو¿س کا خیال تھا کہ ایران کی جانب سے پانچ امریکیوں کو جیل سے گھر میں نظر بند کرنے کی منتقلی حوصلہ افزا ہے لیکن اس نے ان کی رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک حوصلہ افزا قدم ہے۔ ان امریکی شہریوں کو پہلے کبھی گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یقینا ، ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ وہ سب گھر نہ آجائیں۔یہ اقدام تہران اور واشنگٹن کے درمیان بند دروازوں کے پیچھے مہینوں کی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *