Russia may provide fighter jets to Iran: White Houseتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن،(اے یو ایس ) وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعہ کے روز کہا کہ وائٹ ہاو¿س کا خیال ہے کہ یوکرین پر مسلط جنگ کی حمایت کے بدلے میں روس ایران کو لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان فراہم کرسکتا ہے۔ جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ کے پاس معلومات ہیں کہ ایران نے نومبر میں روس کو توپ خانے اور ٹینک بھیجے تھے اور بدلے میں روس ایران کو بے مثال دفاعی تعاون فراہم کر رہا ہے جس میں میزائل، الیکٹرانکس اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران حملہ آور ہیلی کاپٹر، ریڈار اور جنگی تربیتی طیارے خریدنے کا بھی خواہاں ہے۔روسی وزارت دفاع نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج نے مشرقی یوکرین میں تقریباً 240 یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ کوبیانسک کے محور پر 60 سے زیادہ یوکرینی فوجیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس نے یوکرین کے علیحدگی پسندوں کے ڈونیٹسک محاذ پر یوکرینی فورسز پر بمباری کی ہے۔ جمعہ کو ہی یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کو ایک سال گزرنے کے بعد روسی فوج کے خلاف جوابی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ریزنیکوف نے فیس بک پر لکھا ہم فضا میں، زمین پر، سمندر پر اور سائبر سپیس میں مضبوط اور دور تک حملے کریں گے۔ جوابی حملہ کیا جائے گا۔ ہم اس کی تیاری کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

دریں اثنا نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روس کے صدر پوتین کی جنگ میں فتح کو نیٹو ممالک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت سے یورپ کی سلامتی میں اضافہ ہو گا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹن برگ نے مزید کہا کہ روس اور یوکرینی تنازع اب “لاجسٹک جنگ” میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس لیے یوکرین کے اتحادیوں کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سٹولٹن برگ نے جمعرات کو برطانیہ کے سکائی نیوز کو ایک خصوصی بیان میں کہا کہ نیٹو یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے کیونکہ ہم روسی صدر پوتین کو یوکرین میں جیتنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *