Russia suspends Ukraine grain deal over ship attack claimتصویر سوشل میڈیا

ماسکو:(اے یو ایس ) روس نے کریمیا میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں سے زرعی پیداوار برآمد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی کا معاہدہ معطل کردیا روسی اقدام سے تین ماہ کے معاہدے کو دھچکا لگا ہے جس کا مقصد اناج کی سپلائی پر عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین کی افواج نے ڈرون کی مدد سے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے سے روسی الحاق شدہ کریمیا کے سب سے بڑے شہر سیواستوپول میں ہفتے کی صبح حملہ کیا۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یوکرین حکومت کی جانب سے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کے بحری جہازوں اور گرین کوریڈورکی حفاظت کو یقینی بنانے میں شامل سویلین جہازوں کے خلاف برطانوی ماہرین کی شرکت کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی فریق نے یوکرینی بندرگاہوں سے زرعی مصنوعات کی برآمد کے معاہدوں پر عمل درآمد اور اس میں شرکت کو معطل کر دیا ہے۔

وزارت نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہفتے کے روز ڈرون حملوں کو بڑی حد تک پسپا کر دیا گیا تھا جس میں ایک روسی مائن سویپر کو معمولی نقصان پہنچا تھا۔یوکرین کے صدر کے چیف آف اسٹاف اینڈری یرماک نے جزیرہ نما کریمیا میں ہونے والے دھماکوں کے بعد روس پر بلیک میل کرنے اور اپنی ہی سرزمین پر دہشت گردانہ حملے ایجاد کرنے کا الزام لگایا۔قبل ازیں جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جملہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے اناج کی برآمدات کے معاہدے کو بڑھانے بشمول روسی اناج کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے سمیت ہر ممکن کوشش کریں۔

اس معاہدے پر جولائی میں اقوام متحدہ، یوکرین، روس اور ترکی نے دستخط کیے تھے، جس کے تحت یوکرین سے 90 لاکھ ٹن سے زیادہ اناج برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔روسی وزیر زراعت دیمتری پیٹروشیف نے کہا کہ روس ترکی کی مدد سے آئندہ 4 مہینوں میں غریب ممالک کو 5 لاکھ ٹن تک اناج مفت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور یوکرینی اناج کی سپلائی بھی کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سال کی فصل کو مدنظر رکھتے ہوئے، روسی فیڈریشن یوکرین کے اناج کا متبادل دینے اور تمام دلچسپی رکھنے والے ممالک کو سستی قیمتوں پر سپلائی فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *