Russian anger grows over strike that killed dozens of troops in Ukraineتصویر سوشل میڈیا

قیف: یوکرین جنگ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک میں درجنوں روسی فوجیوں کی ہلاکت پر مشتعل روسی قوم پرستوں اور کچھ قانون سازوں نے ان کمانڈروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں وہ خطرات کو نظر انداز کرنے کا مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ روس کی وزارت دفاع نے غیر معمولی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے موقع پر مشرقی یوکرین میں روسی مقبوضہ علاقائی دارالحکومت ڈونیٹسک کے جڑواں شہر مکیوکا میں آتش گیر مادے میں ہونے والے دھماکے سے ایک ووکیشنل کالج میں قائم ایک عارضی بیرک تباہ ہو گئی تھی جس میں 63 فوجی ہلاک ہو گئے۔

روسی ناقدین کے مطابق فوجیوں کو اس جگہ پر گولہ بارود کے ڈ ھیر کے ساتھ رکھا گیا تھا جس کے بارے میں روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس مادے کے ذخیرے میں امریکی ساختہ ہیمارس لانچروں سے داغے گئے چار راکٹ آکر گرے تھے۔ مکیوکا پر نئے سال کے موقع پر حملہ اس وقت کیا گیا جب روس قیف اور یوکرائن کے دیگر شہروں پر رات کے وقت ڈرون حملے کر رہا تھا۔ روس نے پیر کے روز یوکرین کے زیر کنٹرول علاقے ڈونیٹسک کے علاقوں پر حملہ کیا تھا، جس میں کراماٹوسک کے شہر یاکوولیوکا گاو¿ں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میںدروز کیوکا شہر میں ایک آئس رینک تباہ ہو گیا تھا۔ یوکرین نے کہا کہ مکیوکا میں روسی ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے تاہم روس نواز حکام نے اسے مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *