Saudi Arabia is trying to stop the bloodshed of the Sudanese: Prince Faisal Bin Farhanتصویر سوشل میڈیا

ریاض(اے یو ایس ) سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سوڈانی فوج اورمنحرف ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے اعلان کے موقع پر کہا ہے کہ مملکت کی قیادت برادر سوڈانی عوام کی مشکلات کم کرنے اور ان کا خون بہانے کا سلسلہ روکنے کی کوشش کررہی ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے “سوڈان اور اس کے برادر عوام کی سلامتی اور استحکام” کے بارے میں مملکت کی قیادت کی خواہشات پر بات کی۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے جدہ مذاکرات میں شریک سوڈانی فریقوں کے تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے سے سوڈانیوں خصوصاً دارالحکومت خرطوم کے رہائشیوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاہدے کو بعد میں مزید وسعت دی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب اور امریکا نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اعلان کیا ہے کہ سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز[سریع الحرکت فورسز] نے جدہ میں ہونے والی بات چیت کے بعد مختصر مدت کے لیے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔سعودی عرب – امریکا کے مشترکہ بیان کے مطابق سوڈان میں متحارب دونوں فریقین نے 22 مئی سے شروع ہونے والی سات روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کو “دونوں فریقوں کی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے”۔ معاہدے میں دونوں فریقین نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی ترسیل اور تقسیم، بنیادی خدمات کی بحالی، ہسپتالوں اور بنیادی عوامی سہولیات سے افواج کے انخلائ پر بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والوں اور سامان کے محفوظ راستے میں سہولت فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔بیان کے مطابق کہ دونوں فریقوں نے معاہدے پر دستخط کے بعد اور جنگ بندی کے آغاز سے پہلے 48 گھنٹے کے نوٹیفکیشن کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی نہ کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

جنگ بندی پیر 02 ذی القعدہ 1444ھ بمطابق 22 مئی 2023 کو خرطوم کے وقت رات 9:45 بجے کو نافذ ہو جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ معلوم ہے کہ دونوں فریقوں نے پہلے جنگ بندی کے متعدد معاہدوں کا اعلان کیا تھا جن کی انہوں نے پابندی نہیں کی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سابقہ معاہدوں کے برعکس سعودی شہر جدہ میں طے پانے والے نئے معاہدے کو امریکی، سعودی اور بین الاقوامی سرپرستی حاصل ہے۔اس کے بعد ہونے والی بات چیت میں عام شہریوں کے لیے سکیورٹی اور انسانی حالات کو بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کی توقع ہے، جیسے کہ شہری مراکز بشمول شہریوں کے گھروں سے فورسز کا انخلا، شہریوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی آزادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے میں تیزی لانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ سرکاری حکام اپنے فرائض دوبارہ شروع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *