Saudi police release US mother arrested for 'destabilising public order'تصویر سوشل میڈیا

ریاض:(اے یو ایس ) اپنی بیٹی کی تحویل کے لیے برسوں سے کوشاں جس امریکی خاتون کو اس کے سابق سعودی شوہر کی شکایت پر گرفتار کر لیا گیا تھا دو روز بعد جیل سے رہا کر دیا گیا۔امریکی حکام اور امریکہ میں حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے ’فریڈم انیشی ایٹو‘کے مطابق پیر کو امریکی شہری کیرلی مورس کو سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے حراست میں لیا گیا تھا۔فریڈم انیشی ایٹو مشرق وسطیٰ میں بلا جواز حراست میں لیے گئے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔امریکی حکام نے بھی مورس کو حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی ۔ مورس گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی8 سال کی بیٹی کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے سعودی عرب میں قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔

سعودی عرب کے قوانین میں بچوں کی کفالت کے لیے مردوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مورس اس معاملے پر گزشتہ کچھ ماہ سے ٹوئٹ اور رپورٹرسے اظہارِ خیال بھی کررہی تھیں۔بدھ کو دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکہ کا سفارت خانہ اس صورت حال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور سعودی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں امریکی اور مغربی شہریوں سمیت مخالف اور ناقد سمجھے جانے والے افراد کے خلاف کریک ڈاو¿ن کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔فریڈم انیشی ایٹو کی سعودی عرب میں کیس مینیجر بیثانی الحیدری کے مطابق امریکی شہری کیرلی مورس نے 2019 میں اپنی بیٹی کو ان کے سعودی والد سے ملانے کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔

ان کی بیٹی بھی، جس کی عمر اب آٹھ برس ہوچکی ہے، امریکی شہری ہے۔سعودی عرب میں بچوں کی کفالت کے قوانین میں والد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت مورس کی بیٹی کو اس کے والد کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔بیثانی الحیدری کے مطابق سعودی حکومت نے مبینہ طور پر مورس پر سفری پابندی عائد کردی ہے اور انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔ان کے مطابق مورس نے حال ہی میں بیرونِ ممالک رہنے والی بچے والی ماﺅں کو سعودی عرب سے متعلق خبردار کیا تھا۔واضح رہے کہ بطور صدارتی امیدوار صدر جو بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان کو حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث تنہا کرنے کے اعلان کیا تھا۔بائیڈن انتظامیہ یوکرین جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سعودی عرب سے زیادہ تیل کی پیدوار کرنے کے لیے پرامید ہے اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو بھی کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔فریڈم انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ریسرچ ایلی سن مک مینس کا کہنا ہے کہ امریکی خاتون کو حراست میں لے کر سعودی عرب نے ایک بار پھر ’اشارہ‘ دیا ہے کہ بطور اتحادی وہ امریکہ کو اہمیت نہیں دیتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *