Security Council Fails to Adopt Resolution Condemning Moscow's Referenda in Ukraine’s Occupied Territoriesتصویر سوشل میڈیا

جنیوا: (اے یو ایس) روس کے زیر قبضہ یوکرین کے متعدد علاقوں کو ضم کرنے کے لیے روسی استصواب رائے کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور البانیہ کی طرف سے پیش کی گئی مذمتی قرارداد روس کی انب سے ویٹو کرنے کے باعث منظور نہیں ہو سکی ۔ روس کو حاصل ویٹو کے اختیار کی وجہ سے اس قرارداد کے پاس ہونے کا ویسے بھی کوئی امکان نہیں تھا تاہم اسے بعد میں جنرل اسمبلی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس جمعہ کی سہ پہر تین بجے منعقد ہوا۔ امریکی سفارت کار لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے بتایا کہ قرارداد کے متن میں مغرب کی جانب سے شرمناک قرار دیے گئے ریفرنڈم کی مذمت کی گئی اور رکن ممالک سے کہا گیا کہ وہ یوکرین کی تبدیل ہوئی حیثیت کو تسلیم نہ کریں اور روس کو یوکرین سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا پابند کریں۔دونوں ممالک نے فروری میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کی مذمتی قرارداد پر ووٹنگ سے اجتناب کیا تھا تاہم چین نے رواں ہفتے کے اوائل میں تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر روس نے کہا ہے کہ ’جرمنی کو پائپ لائنوں سے بحیرہ بالٹک میں گیس کا اخراج ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ یورپی یونین نارڈ ون اور نارڈ ٹو پائپ لائن کی سمندر میں لیکج کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ ڈنمارک اور سویڈن کے ساحلوں کو پہنچنے والا نقصان تخریب کاری کا نتیجہ ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ’یہ ممکنہ طور پر ریاستی سطح پر دہشت گردی کی کارروائی جیسا معلوم ہوتا ہے۔ یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائی ریاست کے ملوث ہونے کے بغیر ہو سکتی ہے۔روس نے کہا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، اس کے حوالے سے مغرب کے ساتھ لفظی جنگ میں امریکہ کو فائدہ پہنچا۔ماسکو نے اس سے قبل کہا تھا کہ یہ لیکج اس علاقے میں ہوئی ہے جو امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔یورپی یونین کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ یورپی یونین کے رہنما آئندہ ہفتے پراگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں نقصانات کے اثرات پر تبادلہ خیال کریں گے۔پیر کو بحیرہ بالٹک سے گزرنے والی نارڈ پائپ لائن سے گیس کے اخراج کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس سے گیس کی سپلائی منقطع ہو گئی تھی۔ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ یہ حادثہ تھا یا پھر اس کے کچھ اور محرکات تھے، تو ان کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔روس نے یوکرین پر حملے کے بعد لگنے والی پابندیوں کے ردعمل میں یورپ کو گیس کی سپلائی کم کر دی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *