اسلام آباد: (اے یو ایس ) شدید علیل اور متحدہ عرب امارات کے ایک اسپتال میں زیر علاج سابق فوجی حکمراں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی ممکنہ وطن واپسی کے معاملہ پر سینیٹ میں زبردست بحث چھڑ گئی اور اس معاملے پر اختلا ف رائے سامنے آیا۔دراصل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے سیاسی مخالف اور سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کو وطن واپس آنے پر حکومت کی جانب سے سہولت فراہم کرنے کے بیان کے بعد حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے سینیٹرز کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ آیا سابق صدر کو وطن واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ مشرف کی واپسی کا فیصلہ ہم نہیں کریں گے، یہ فیصلے کہیں اور ہوں گے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، ایوان بالا میں سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کا معاملہ زیر بحث آنے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نہیں کریں گے یہ فیصلے کہیں اور ہوں گے، جب وہ باہر گئے تھے تو کیا آپ روک سکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جب وہ واپس آئیں گے تو کیا آپ روک سکیں گے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک فضول عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں جیل میں رہا ہوں لیکن جب میں وزیر اعظم بنا تو انہوں نے ہی میرا حلف لیا تھا، جب پرویز مشرف یہاں تھے تو میں نے انہیں معاف کردیا تھا، اگر وہ آنا چاہتے ہیں تو آجائیں پاکستان ان کا گھر ہے، ہمیں ان کی واپسی پر کوئی اعتراض ہے لیکن سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔دورانِ اجلاس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف اس ملک کے باشندے ہیں، وہ بیمار ہیں، اگر آنا چاہتے ہیں تو انہیں آنے دینا چاہیے۔
تصویر سوشل میڈیا 