SIGAR released its report on why the Afghan government collapsedتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سابق حکومت جسے بین الاقوامی حمایت حاصل تھی، 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے سے پہلے، بہت سی دیگر وجوہات کے علاوہ اس حقیقت کا یقین نہ کرنے کے باعث ناکام ہوئی کہ امریکہ افغانستان سے واقعتاً واپس جا رہا ہے۔افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ا سپیشل انسپکٹر جنرل یا سگار نے جوافغانستان میں امریکی سرمایہ کاری کا آڈٹ کرتا ہے، موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں اور سابق افغان حکومت کے عہدیداروں اور ماہرین سے گفتگو پر مبنی یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

سگار کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی، انتہائی چنیدہ، قریبی وفاداروں کی ایک مختصر تعداد کے ساتھ حکومت چلا رہے تھے جو ایک اہم موڑ پر حکومت کے عدم استحکام کا باعث بنا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت میں مرکز کا انتہائی کنٹرول، وسیع بد عنوانی اور کسی جواز کے حصول کی جدوجہد طویل عرصے کے وہ عناصر تھے جنہوں نے بالآخر ا س کے اختتام میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق اس حقیقت نے کہ امریکہ نے 20 سال تک افغانستان کی مدد کی اور یہ کہ اپنی جدید تاریخ میں افغانستان غیر ملکی امداد پر انتہائی انحصار کرتا رہا، افغان سیاستدانوں اور لیڈروں کے لیے امداد کے بغیر کسی مستقبل کا تصور ناممکن بنا دیا۔سگار کے جائزے کے مطابق امریکہ بھی افغانستان میں بد عنوانی کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا اور مستحکم، جمہوری، سب کی نمائندگی کے حامل، صنفی لحاظ سے حساس اور جواب دہ افغان سرکاری ادارے قائم کرنے کا اپنا ہدف حاصل نہ کرسکا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جون 2021 تک افغانستان کے لیے 145 ارب ڈالر مختص کیے جن میں سے 36.3 ارب ڈالر گورنس اور معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے لیے تھے۔ مگر ہوا کیا، حکومت ختم ہوگئی، غنی ملک سے بھاگ گئے، امریکی قیادت میں ناٹو کے فوجی واپس چلے گئے اور طالبان نے تیزی سے ملک پر قبضہ کر لیا۔سگار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ 20 سال سے زیادہ عرصے میں تین امریکی صدر آئے مگر افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بارے میں امریکہ کی رائے بدلتی رہی۔ امریکہ میں پالیسی سازوں اور دیگر سے افغان حکومت کو ملے جلے پیغامات ملتے رہے جن میں غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے لیے تیار نہ ہونے کی بات کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *