Suicide rate among active duty troops jumps to six-year highتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن:(اے یوایس ) افغانستان میں 2013 میں اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے جب امریکی نیوی کی لیفٹننٹ کمانڈر ڈاو¿ن ولیم سن گھر واپس آئیں تو انہیں لگا کہ وہ جذباتی طور پر بے حس ہوچکی ہیں۔ اگلے کچھ برسوں میں اس کی مزید تشویشناک علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ولیم سن کا کہنا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے میں کہیں گم ہو چکی ہوں۔انہوں نے محاذ سے واپسی پر ذہنی بے ترتیبی، ڈپریشن، یادداشت میں کمزوری اور مسلسل تھکن محسوس کی۔

بقول ان کے میں اپنے کیپٹن کے پاس گئی اور انہیں کہا کہ سر مجھے مدد کی ضرورت ہے، کچھ غلط ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پینٹاگون امریکی فوج میں بڑھتی خودکشیوں کے رجحان کے مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ ولیم سن کا تجربہ ان فوجی اہلکاروں کے مسائل پر روشنی ڈالتا ہے جو ذہنی صحت کے مسائل کے لیے مدد طلب کرتے ہیں۔جہاں صرف ان پریشانیوں کے بارے میں آگاہ کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، وہیں ان افسران کوآگے جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بھی بہت پریشان کن ہو سکتے ہیں۔46 برس کی ولیم سن نے بالآخر استحکام حاصل کر لیا لیکن اس کے لیے انہیں ایک مہینہ ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ذہنی سکون حاصل کرنے کے ایک پروگرام میں بھی حصہ لیا جس میں گھڑ سواری سکھائی جاتی ہے۔ لیکن انہیں اس ضروری مدد کوحاصل کرنے کے لیے برسوں جدوجہد کرنی پڑی۔ بقول ان کے یہ بہت حیران کن ہے کہ میں اس سب کے باوجود یہاں کیسے موجود ہوں۔

رواں برس مارچ میں امریکہ کے وزیر دفا ع لائیڈ آسٹن نے فوج کے دماغی صحت اور خود کشی کی روک تھام کے پروگرام کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی تھی۔محکمہ دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق 2015 سے 2020 کے دوران ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں میں خود کشی کی شرح میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔صرف 2020 میں اس شرح میں 15 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ طویل دورانئے میں اگر ان اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو خودکشیوں کا مرکز الاسکا بن چکا ہے جہاں تعینات ہونے والے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،موسم بھی شدید سرد ہے۔ یہاں خودکشی کی شرح دوگنی ہوچکی ہے۔2021 میں کاسٹ آف وار نامی تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا تھا کہ ستمبر گیارہ 2001 کے واقعات کے بعد سے اب تک امریکی فوج میں خودکشی سے ہونے والی اموات جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں سے چار گنا زیادہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *