کابل: (اے یو ایس )افغانستان میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار اموات کے بعد طالبان نے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق منگل کی شب آنے والے زلزلے سے 1000 افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہو گئے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان کا صوبہ پکتیکا منگل اور بدھ کی درمیانی سب آنے والے زلزلے سے شدید متاثر ہوا تھا اور زلزلے کے بعد سے اب تک متعدد افراد مٹی سے بنے مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عینی شاہدین اور امداد میں مدد کرنے والوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کئی گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ سڑکیں بند اور موبائل فون ٹاور کام نہیں کر رہے جب کہ اموات کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور دوردراز علاقوں میں زخمیوں اور لاشوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاہم ملک میں جاری موسلادھار بارشوں اور ڑالہ باری سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔دیہی مشرقی افغانستان میں سفر کرنا آسان نہیں اور ایسے میں اگر امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہچنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو نامناسب حالات اور کم وسائل کے باعث وہ بہت سے علاقوں میں منہدم مکانات کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھدائی کر رہے ہیں۔
ایک افغان شہری نے شدید زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر اور صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’چند ہیلی کاپٹر مدد کو پہنچے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ لاشیں منتقل کرنے کے علاوہ اور کیا مدد کر سکتے ہیں۔ایک مقامی متاثر شخص احمد نور کا کہنا تھا کہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے کے کچھ دیر بعد زلزلہ آیا، میں خوفزدہ ہو گیا تھا میں نے اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کچھ نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کھو دیا۔ چند صحیح سلامت ہیں لیکن ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ہر جگہ ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دیں گی، میں نے لوگوں سے بات کی ہے وہ بہت زیادہ پریشان اور اضطراب کا شکار ہیں۔ انھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ وہ بہت ہی بری صورتحال میں ہیں۔
‘زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موجود عینی شاہدین ایک سنگین صورتحال بیان کرتے ہیں۔ وہاں موجود ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’آپ جس گلی میں بھی جاتے ہیں آپ کو وہاں لوگ اپنے پیاروں کی موت کا ماتم کرتے سنائی دیتے ہیں۔بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی ایک تصویر میں ایک تین، چار سالہ بچی مٹی و دھول میں لت پت اپنے جزوی طور پر منہدم گھر کے سامنے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی اور خوف کے آثار نمایاں ہیں اور یہ واضح نہیں کہ اس کے باقی خاندان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بی بی سی ان کی خیریت کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا