Taliban dancing with AK-47 inside the classrooms in girls' schoolsتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان پر طالبان کی حکومت کے بعد عوام بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ سال کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے بڑے بڑے وعدے کیے لیکن چند دنوں کے بعد ان کے وعدوں کی ہوا نکلنی شروع ہو گئی۔ خواتین کی ترقی کا دعوی کرنے والے طالبان نے لڑکیوں کے ا سکول جانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسکول کالج کے جن کمروں میں اسکولی طالبات کو بیٹھنا تھا اور پڑھنا تھا ان میں طالبان جنگجوبندوقیں لہراتے ہوئے ناچ رہے ہیں۔ جب کہ طالبان نے عالمی برادری کے سامنے کہا تھا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق میں تخفیف نہیں کریں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں طالبان جنگجو رقض کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں لکھا ہے، ‘لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کے بعد طالبانی لڑکیوں کے اسکولوں میں کلاس رومز کے اندر ناچ رہے ہیں۔ یہ کلاس روم مشرقی افغانستان کے صوبہ نورستان کے ویگل ہائی سکول کا ہے۔ ویڈیو میں چار جنگجوو¿ں کو بندوقوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پانچواں شخص ویڈیو بنا رہا ہے۔ واضح ہو کہ مارچ میں طالبان نے لڑکیوں کی اعلی تعلیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ افغانستان میں اب لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے اوپر کے اسکولوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

بین الاقوامی برادری طالبان رہنماؤں پر دباؤ ڈل رہی ہے کہ وہ درجہ ششم سے اوپر کی طالبات کے لیے جلد از جلدا سکول کھولیں اور خواتین کو ان کے عوامی حقوق دلوائیں۔ طالبان کی وزارت نے ایک بیان جاری کیا جس میں تمام ‘طالب علموں’ سے ا سکول آنے کو کہا گیا۔ طالبان انتظامیہ کے خارجہ تعلقات کے اہلکار وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ قیادت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ لڑکیوں کو کب اور کیسے دوبارہ اسکول جانے کی اجازت دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *