Taliban directs judges to impose full enforcement of Shariaتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ اس معاملے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان اب طالبان اپنے اصلی رنگ دکھا نے لگا ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی (شرعی)قانون کو مکمل طور پر نافذ کریں۔ شرعیہ قانون کے تحت روح فرسا سزائیں دی جائیں گی۔ طالبان کے اس حکم نامے کو افغانستان کے لیے خطرہ بتایا جا رہا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے یہ حکم تب آیا جب سپریم لیڈر نے ججوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ججز کے اجلاس میں یہ طے ہوا ہے کہ چوروں، اغوا کاروں اور غداروں کے خلاف شرعیہ (اسلامی) قانون کے تحت کارروائیاں کی جائے گی۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے رہنما کا حکم پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔افغان خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ اسلامی گروپ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی طالبان رہنما نے ملک بھر میں اسلامی قوانین کے تمام پہلوو¿ں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو)کے مطابق طالبان کے اگست 2021 میں افغانستان کا اقتدار سنبھالا اور ایسی پالیسیاںخاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے سخت پابندیاں نافذ کیں جو بنیادی حقوق کو سختی سے محدود کرتی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *