Taliban is allowing LeT and JeM to shift base to Afghanistan, claims former Afghan Security chiefتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان کے سراغ رساں ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے یہ انتباہ دیتے ہوئے ہوئے کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے ہندوستان کو نشانہ بنانے والے پاکستانی دہشت گرد گروپوں نے بر سر اقتدار طالبان کی مدد سے اپنے اڈے افغانستان منتقل کر دیے اور تکنالوجی اور علاقہ تک مزید رسائی رکھنے لگے ہیں، کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات و روابط کے باوجود ہندوستان کو اپنی سلامتی و تحفظ کے حوالے سے چوکنا رہنا چاہئے اور کسی طور اس معاملہ میں اسے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ نبیل نے مزید کہا کہ طالبان سے تعلق قائم کرنا بلا شبہ ہندوستان کے لیے اپنے ذاتیمفادات کے لیے ضروری تھا، لیکن ہندوستان کو سابق رہنماؤں کے ساتھ بھی، باوجود اس کے کہ وہ بر سر اقتدار نہیں ہیں، تعلقات بر قرار رکھنے چاہئیں۔

مسٹر نبیل نے، جنہوں نے سابق صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی دونوں کے دور میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اپنے دور (2010-2015) کے دوران ہندوستان کے ساتھ قریبی تعاون کیا تھا، مسٹر غنی کے دورہ پاکستان اور دونوں ملکوں کے سیکیورٹی سربراہان کے درمیان ہاٹ لائنز قائم کرنے کے فیصلہ پر اپنے عہدے سے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ساتھ قریبی تعلقات ہونے کے باوجود انہیں ویزہ نہیں دیا گیا۔ نبیل نے کھلے لفظوں میں کہا کہ ہندوستان کسی وہم اور غلط فہمی میں نہ رہے کہ طالبان یا ان کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی آچکی ہے۔ایسا ہر گز نہں ہوا ہے اوران کے رگ و پے میں جو ہند مخالف جذبات سرایت کیے ہیں وہ آج بھی ان کے خون میں دڑ رہے ہیں ۔ افغانستان میں القاعدہ برصغیر پاک و ہند اور اسلامک اسٹیٹ خراسان سمیت افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی تعدادکا ذکر کرتے ہوئے نبیل نے کہا کہ ہزاروں غیر ملکی جنگجو کونار اور نورستان صوبوں میں مقیم ہیں اور پڑوسی ممالک بشمول ہندوستان اور تاجکستان پر حملوں کی سازش رچ رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *