Taliban mocks Pakistan, reminds it of its surrender to Indian forces in 1971 warتصویر سوشل میڈیا

کابل: طالبان کے سینیئر رہنما اور نائب وزیر اعظم احمد یاسر نے 1971 میں ہندوستانی افواج کے سامنے پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے پاکستان کا مذاق اڑایا ۔ پیر کے روز اسی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان نے کہا کہ اگر اسلام آباد نے افغانستان پر فوجی چڑھائی کی تو اسے اسی شرمناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ احمد یاسر کاٹوئیٹر کے توسط سے یہ بیان پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر ممکنہ پاکستانی فوجی کارروائی کے عندیہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ احمد یاسر نے ٹوئیٹر پر پاکستان کا مذاق اڑایا اور اسے وہ حشر یاد دلایا جو ہندوستان نے 1971 میں اس کا کیا تھا۔ یاسر نے اسلام آباد کو بدنامی سے بچنے کے لیے بھی کہا۔

یاسر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا وزیر داخلہ پاکستان! بہت خوب ! یہ افغانستان ہے جو بڑی بڑی حکومتوں کا قبرستان ہے۔ احمد یاسر نے اپنی ٹویٹر پوسٹ میں مزید کہا کہ ہم پر فوجی حملے کا نہ سوچیں، ورنہ ہندوستان کے ساتھ فوجی ٹکراو¿ کا نتیجہ اپنی کہانی دوہرائے گا ۔احمد یاسر نے 16 دسمبر 1971 کی تصویر بھی شیئر کی جس میں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو ڈھاکہ میں خود سپردگی نامہ ‘ پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دن کو ہندوستان میں وجے دیوس’ کے طور پر منایا جاتا ہے یہ وہ دن جب ہندوستان نے بنگلہ دیش کی آزادی میں مدد کی تھی۔

واضح ہو کہ چند روز قبل پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ امارت اسلامیہ کے حکام نے پاکستان افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا قلع قمع کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی تو پاکستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملہ کر سکتا ہے ۔ان اشتعال انگیزیوں کے جواب میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے علاقہ پر حملہ کرنے کا حق نہیں ہے، دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو اس طرح کے حملوں کی اجازت دیتی ہو، اگر کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہے تو وہ مارت اسلامیہ کے ساتھ شیئر کرے کیونکہ ا کے پاس کافی فوج ہے اور وہ کارروائی کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *