کابل:طالبان نے ایک بیان میں دریائے ہلمند کے پانی پر ایرانی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں ایرانی صدر کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یہ ہلمند آبی معاہدہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین نصف صدی قبل 1973میں ہوا تھا جو ابھی تک نافذالعمل ہے اور امارت اسلامیہ اس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے پابند عہد ہے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حالیہ برسوں میں افغانستان اور خطے میں شدید خشک سالی کی وجہ سے دریائے ہلمند سمیت تمام ندیوں میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی صوبے خشک سالی اور پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
حالات کی بنیاد پر ہم ایران کی جانب سے پانی کی بار بار کی درخواستوں اور میڈیا میں نامناسب بیانات کو ضرر رساں سمجھتے ہیں اور ایران کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے پانی کی سطح اور خطے میں بالخصوص دریائے ہلمند کے حالات کے بارے میں معلومات مکمل کرے اور پھرمناسب الفاظ کے ساتھ اپنا مطالبہ کریں۔ مناسب معلومات کے بغیر اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور یہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کا اب اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔
تصویر سوشل میڈیا 