Taliban spokesman Mujahid says travel ban affecting relations with worldتصویر سوشل میڈیا

کابل:امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں پر موجودہ سفری پابندیوں سے نگراں حکومت کے بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہورہے ہیں ۔مجاہد نے مزید کہا کہ ان سفری پابندیوں سے افغانستان اور عالمی برادری کے درمیان عدم اعتماد کی کیفیت پیدا ہو جائےگی ۔تاہم انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں پر عائد یہ سفری پابندیاں جلد ہٹا دی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا اٹھالیا جانا ایجنسیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ افغانستان دونوں کے حق میں موثر ثابت ہوگا۔ نیز میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پابندیوں سے کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ اس لیے ان پابندیوں کو جن کا کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہیں ہوتا نہیں لگائی جانی چاہئیں۔ واضح ہو کہ اگست 2022 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امارت اسلامیہ کے 13 رہنماو¿ں کے لیے سفری پابندی سے استثنیٰ دیے جانے کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں کر سکی۔

یونیورسٹی کے ایک انسٹرکٹر سید جواد سجادی کے مطابق سفری پابندی سے استثنیٰ کی مدت میں توسیع نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ عبوری حکومت نہ صرف ایک جامع حکومت بنانے اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اقوام متحدہ میں خواتین کارکنوں پر پابندی کے معاملے سے بھی اس نے رو گردانی کر لی۔بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کار بلال فاطمی نے کہاکہ ہم اب بھی دیکھتے ہیں کہ جب بھی ضرورت پڑتی ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل وزیر خارجہ امیر خان متقی کو پاکستان جانے کی اجازت دے دیتی ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے متقی کو افغانستان سے پاکستان جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا جہاں انہوں نے پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *