The Israeli military establishment came under fireتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب ،(اے یو ایس)اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف مظاہرے اسرائیلی فوج اور ریزرو افسروں تک پہنچ گئے ہیں جس کے بعد سیاسی اور سکیورٹی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ یہاں تک کہ ان مظاہروں سے افسروں میں فوج کے اندر نافرمانی شروع ہوجانے کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ ان میں سے بعض نے حکام کی جانب سے موصول فوجی احکامات کی تعمیل سے انکار کا اعلان کر دیا۔سابق فوجی افسر اکرم حسون کا خیال ہے کہ فوجیوں، ریزرو افسران اور اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کا یہ احتجاج ایسا ہے جس کیا ایسی نظیر ہے اسرائیل نے پہلے نہیں دیکھی ہے۔ اس نے اہلکاروں کے سامنے ریڈ لائن روشن کر دی ہے۔ اس سے اسرائیل کے استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ احتجاجی مہم کی توسیع نے بڑے پیمانے پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ جس کی وجہ سے متعدد جماعتوں کو حکومت کو اپنے فیصلوں اور عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی طرف جانا پڑا۔جس طرح حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے جمعرات 16 فروری کی شام تقریر میں کی۔ اس کے بعد میڈیا اور سکیورٹی حکام نے اس دوران اسرائیل کو پیغام دیا ہے کہ براہ راست دھمکی دی گئی ہے۔ تقریباً 600 فوجی اور ریزرو افسران اور ان کے اہل خانہ نے سیکیورٹی منسٹر یووگیلنٹ کے گھر کے سامنے مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ حکومت کو اپنی پالیسی جاری رکھنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات کی ایتمار بن گویر اور سماٹریچ نے منصوبہ بندی کرلی تھی۔مظاہرے میں حصہ لینے والے ایک سابق افسر نے موجودہ حکومت کی پالیسی کو “اسرائیل کی سلامتی اور مستقبل کے لیے خطرہ سمجھا اور کہا کہ اس پالیسی کا تسلسل ہر کسی کو پاتال کی طرف لے جائے گا۔مظاہرین کی جانب سے لگائے جانے والے نعرے بھی صہیونی ریاست میں ہونے والے مظاہروں کے دوران لگائے گئے نعروں سے مختلف تھے۔ان میں سے بعض نے موجودہ حکومت کو جمہوریت کے خاتمے کی طرف گامزن سمجھتے ہوئے فوجی احکامات کی تعمیل نہ کرنے کی دھمکی دے دی۔مظاہرے میں سابق ریزروسٹ بھی تھے جن کی اولادیں آج اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان میں ایال ناوی بھی شامل تھے۔ مظاہرے کے منتظمین میں سے ایک نے کہا آنے والے دنوں میں مزید مظاہرے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا تل ابیب آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ریزروسٹ پریشان ہیں کہ اسرائیل کے مستقبل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔دوسری طرف فوج مخالف ان مظاہروں کے جواب میں لگ بھگ 400 سکیورٹی فورسز کے افراد نے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں انہوں نے صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیجے گئے ایک خط پر دستخط کرتے ہوئے، ملک کی صورت حال کے بارے میں اپنی تشویش اور عدلیہ کو کمزور کرنے کے نیتن یاہو کی حکومت کے منصوبے کے متعلق خبردار کیا۔

.ہرزوگ سے اپنی درخواست میں انہوں نے جس چیز سے خبردار کیا وہ یہ تھی کہ عدلیہ کو کمزور کرنے کے حکومتی منصوبے کے اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے عالمی عدالتوں میں اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں پر مقدمات چلانے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔اسرائیلی صدر کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے والے نمایاں ناموں میں موساد کے سابق سربراہ تامیر پارڈو، شن بیت کے سابق سربراہ نداوار گمان، سابق قومی سلامتی کے مشیر عزی اراد ، فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف سٹاف متان ولنائی اور دیگر شامل ہیں۔خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ ہم عجلت میں قانون سازی کے اقدامات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں ، ایسے اقدامات نظام میں بغاوت کا سبب بنتے ہیں اور نسلوں کو رلانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ تمام حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں کی اکثریت اس نوعیت کی سختی سے مخالفت کرتی ہے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہرزوگ عدلیہ سے متعلق قوانین پر دستخط نہ کریں۔ یہ مطالبہ یہ جانتے ہوئے کیا گیا کہ ایک مرتبہ کنیسٹ(پارلیمنٹ)کی طرف سے منظوری کے بعد اس قانون پر صدر کے دستخط صرف ایک سرکاری دستخط ہوتے ہیں اور یہ کسی تبدیلی کا سبب نہیں بنتے۔ خط میں انہوں نے زور دیا کہ حکومت نے جس اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا ہے اس سے سب سے زیادہ متاثر اسرائیلی فوج اور سکیورٹی فورسز ہیں۔فوجی ادارے کے لیے تشویش کا ایک حصہ والدین کا اپنے بچوں کو بھرتی میں بھیجنے سے انکار ہے۔

سابق افسر اکرم حسون نے کہا کہ اسرائیل میں اس سے پہلے یہ آواز نہیں سنی گئی، سکیورٹی حکام کا رونا صورت حال کوبدلنے میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ کیونکہ اس گروہ نے اسرائیل کی خدمت کی اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنی سلامتی اور اسرائیلیوں کی سلامتی کی خاطر کام کیا ہے۔ چونکہ وہ غیر جانبدار ہیں اور ان کا احتجاج سیاسی مقاصد کے لیے نہیں آتا۔اس لیے ان کی سرگرمیاں سب سے زیادہ مو¿ثر اور کامیاب ہیں۔جنرل سٹاف کے ایک سینئر اہلکار نے وضاحت کی کہ اگرچہ فوج کو ابھی تک فوجیوں یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے مسترد ہونے کے کیس موصول نہیں ہوئے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تشویش حقیقی نہیں ہے۔ فوج کے لیے لازم ہے وہ اس صورت کے لیے تیار رہے کہ کبھی بھی اسے بھرتی یا ریزر و خدمات سے انکار کا جواب موصول ہوجائے۔اس صورت حال کے پیش نظر ملٹری کمانڈ نے ریزرو سسٹم میں بٹالین کے کمانڈروں کو نئی ہدایات بھیجیں اور ان سے کہا کہ ہوشیار رہیں اور میدان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر توجہ دیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا فوجیوں کے درمیان کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔ اعلیٰ سطحوں کو فوری طور پر مطلع کرنے کے لیے کمانڈ نے باقاعدہ یونٹ کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ اضافی طور پر چوکنا ہوجائیں اور فوج کی صفوں میں تنازعات کو گھسنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی کی طرف سے فوج کے اندر سے آنے والی ان آوازوں کے سامنے اختیار کی گئی خاموشی سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے اور بھرتی کے دنوں میں بحران کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔

بھرتی مارچ سے شروع ہونا ہے۔ایک طرف حکومت کو خطرہ سیکورٹی فورسز کی آوازوں اور اس کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھرتیوں سے ہے تو دوسری طرف حکومت کو اندرونی خلفشار اور تنازعات کے باعث بھی اپنی ثابت قدمی اور اتحاد کے حوالے سے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔اسرائیلی سلامتی کے وزیر گیلنٹ کو وزیر خزانہ سماٹرچ سے شدید اختلافات ہیں۔ گیلنٹ نے سماٹرچ اور نیتن یاھو کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں کے تحت اختیارات وزارت سلامتی سے وزیر خزانہ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔سلامتی کے وزیر نے نیتن یاہو کو مطلع کیا کہ اسرائیلی فوج کی کوئی بھی کارروائی ایک حفاظتی کارروائی ہے اور اس لیے اسے ان کے مکمل اختیار میں رہنا چاہیے۔ سماٹریچ کے قریبی ساتھی کے مطابق یہ تنازعہ ان کی پارٹی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ .ایک اور تنازعہ حکومت کے لیے خطرہ ہے جو حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے۔ یہ تنازع نیتن یاہو اور وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے درمیان ہے۔ مشرقی القدس کے حوالے سے حالیہ منصوبے کے سامنے آنے کے بعد سکیورٹی اسٹیبلٹمنٹ میں بڑے تحفظات پیدا ہوگئے ہیں۔ منصوبے کے نفاذ سے تناو¿ بڑھ جائے گا تاہم بن گویر اپنے فیصلوں پر عمل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *