The murder of an entire family in Sudanتصویر سوشل میڈیا

خرطوم ،(اے یو ایس)سوڈان میں ایک پورے خاندان کے مجرمانہ قتل کی واردات کے سامنے آنے کے بعد علاقے میں خوف کی فضا پائی جا رہی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق اجتماعی قتل کی یہ واردات سودان کے شہر کسلا میں پیش آئی جہاں خاندان کے سربراہ کی لاش پنکھے سےلٹکائی گئی تھی جب کہ اس کی بیوی اور تین بچے اس کے سامنے فرش پر مردہ حالت میں پڑے تھے۔قتل کی اس واردات کے محرکات کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک 32 سالہ شخص کو پھانسی دے کر ہلاک کیا گیا۔ اس کی 30 سالہ بیوی اور اس کے تین بچوں کو بھی قتل کردیا گیا۔ مقتول بچوں کی عمریں 8 سے 3 سال کے درمیان ہیں، لاشیں نیچے اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ واقعہ دارالحکومت خرطوم سے 480 کلو میٹر مشرق میں واقع کسلا شہرکی عرب کالونی میں پیش آیا۔مجرمانہ قتل کی اس واردات کے بعد کسلا شہر میں خوف کی فضا پائی جا رہی ہے۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پولیس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مذکورہ مقام پر پہنچی اور فوری طور پر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا تاکہ خصوصی تکنیکی ٹیمیں جائے وقوعہ کی تصاویر کھینچ سکیں، فنگر پرنٹس لے سکیں اور جائے وقوعہ سے فضلہ اکٹھا کر سکیں۔ پانچوں مقتولین کی لاشیں کسلا اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں اور ان کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی تدفین کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ باپ پنکھے کے ساتھ لٹکا کرموت کے گھاٹ اتارا گیا تاہم اس کی بیوی اور بچوں کی موت کے اسباب کا تعین نہیں ہوسکا۔ اس کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے کہ یہ خوفناک واقعہ کیسے پیش آیا۔ بعض لوگ اسے خاندانی جھگڑے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گھریلوناچاقی پرشوہرنے بیوی اور تین بچوں کو موت کی نیند سلانے کے بعد خود کشی کی ہے تاہم پولیس اس واقعے کی مختلف پہلوو¿ں سے تحقیقات کررہی ہے۔ایک اور اطلاع یہ ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی اور تین بچوں کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار اور اس کے بعدخودکشی کر لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *