The world stood with India on Taliban, PM Modi's words in the United Nations General Assembly were sealedتصویر سوشل میڈیا

نیو یارک: افغانستان میں طالبان کی حکومت بننے پر جب پوری دنیا نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی تو ہندوستان نے کھل کر مخالفت کی تھی۔ وزیر اعظم مودی نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو پوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ بالآخر دنیا کو نریندر مودی کی بات کی حقیقت کا اندازہ ہوگیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے تمام ممالک نے طالبان کے خلاف قرارداد پاس کی۔ اس کے ساتھ ہی پی ایم مودی کی طرف سے کہی گئی پہلے کی باتوں پر مہر لگ گئی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی جس میں طالبان پر افغان خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔ اس نے طالبان پر نمائندہ حکومت قائم کرنے میں ناکامی اور ملک کو سنگین معاشی، انسانی اور سماجی صورت حال سے دوچا کردینے کا الزام لگایا ہے۔ ہندوستان نے کھل کر طالبان کے خلاف اور قرارداد کے حق میں ووٹ دیا لیکن پاکستان، چین، روس اور شمالی کوریا سمیت دنیا کے 67 ممالک ووٹ دے کر افغانستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ اس کے باوجود طالبان کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوگئی۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آتے ہی ہندوستان نے القاعدہ، دولت اسلامیہ فی لعراق والشام (داعش) ، حقانی نیٹ ورک جیسے خوفناک دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ان کے اتحاد کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت گردی کے بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ طالبان کے خلاف پاس ہونے والی قرارداد میں کہیں نہ کہیں ہندوستان کی انہی باتوں کو سچ مان لیا گیا ہے۔ ایک طرح سے، یہ ہندوستان کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔ قرارداد میں 15 ماہ قبل افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے ملک میں جاری تشدد اور القاعدہ اور دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ہی غیر ملکی دہشت گرد جنگجو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں جرمنی کے سفیر اینٹجے لینڈرسی نے امید ظاہر کی کہ 193 رکنی جنرل اسمبلی جرمنی کی طرف سے تجویز کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لے گی۔ بالآخر وہی ہوا اور 116 ارکان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ روس، چین، بیلاروس، برونڈی، شمالی کوریا، ایتھوپیا، گنی، نکاراگوا، پاکستان اور زمبابوے سمیت دس ممالک نے قرارداد پر ووٹنگ نہیں کی۔ اس طرح 67 ممالک نے ووٹ نہیں دیا۔ سلامتی کونسل کے برعکس جنرل اسمبلی کی قراردادیں قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں لیکن یہ عالمی رائے عامہ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ووٹنگ سے قبل، جرمن سفیر نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان نے “بڑے پیمانے پر معاشی اور انسانی بحران” دیکھا ہے، جس کی نصف آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ قرارداد میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *