Thousands of terrorists, suicide bombers being trained in Afghanistanتصویر سوشل میڈیا

دوشنبے:تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر خودکش دستوںکی موجودگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے بین الاقوامی برادری میں بہت سے ممالک کی بڑھتی تشویش کی بازگشت قرار دیا جارہا ہے ۔

تاجکستان کے صدر نے ایشیا میں تال میل اور اعتماد سازی کے اقدامات (سی آئی سی اے ) کی چھٹی کانفرنس کے سربراہی اجلاس میں کہا کہ افغانستان میں دسیوں ہزار دہشت گردوں اور خودکش بمباروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ براعظم میں وبائی امراض کے بعد کی خارجہ پالیسی کے اجتماعات میں میں سے ایک اس کانفرنس میں آذربائیجان، قازقستان، بیلاروس، ایران، کرغزستان، تاجکستان، فلسطین، روس، ترکی اور ازبکستان کے صدور، قطر کے امیر سمیت 11 سربراہان مملکت اور 50 وفود نے شرکت کی ۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے ، جنہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی، افغانستان میں ایک جامع اور نمائندہ حکومت کے قیام کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین کے مطابق فغانستان خطے کا سب سے اہم سیکورٹی چیلنج ہے۔ امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملے کے بعد ، جس میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں القاعدہ کا سربراہ مارا گیا ، افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے دوبارہ سر اٹھانے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیاجا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *