Thousands of U.S. sailors, Marines reach Red Sea after Iran tensionsتصویر سوشل میڈیا



واشنگٹن:امریکہ نے بین الاقوامی آبی گذرگاہوں سے گذنے والے تیل ٹینکروں کو ضبط کیے جانے کا ایران پر الزام لگاتے ہوئے ہزاروں فوجیوں کو بحر احمر میں تعینات کر دیا۔ اس حوالے سے امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ تیل ٹینکر قبضے میں لینے کی ایرانی کارروائی پر امریکہ کی جانب سے ظاہر کیے گئے سخت ردعمل کے ایک جزو کے طور پر 3,000 سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار دو جنگی جہازوں پر سوار ہو کر تیل کی عالمی تجارت کے لیے اہم خلیجی سمندری راستے بحیرہ احمر میں تعینات کیے جاچکے ہیں جس پر ایران نے امریکا پر علاقائی عدم استحکام کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو سالوں کے دوران خطے میں تقریباً بین الاقوامی پرچم والے 20 بحری جہازوں کو یا تو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی ہے۔ یہ تعیناتی اس وقت کی گئی جب امریکہ نے کہا کہ اس کی افواج نے 5 جولائی کو عمان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی طرف سے کمرشل ٹینکرز کو قبضے میں لینے کی دو کوششوں کو روک دیا تھا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران میں سمندری ساحلی دستوں نے کہا کہ دو ٹینکروں میں سے ایک، بھامیان پرچم والا رچمنڈ ووئیجر، ایک ایرانی جہاز سے ٹکرا گیا تھا جس میں عملے کے پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے۔

اپریل اور مئی کے اوائل میں ایران نے علاقائی پانیوں میں ایک ہفتے کے اندر دو آئل ٹینکر قبضے میں لے لیے تھے۔ امریکہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ خلیج میں ایران کو بحری جہازوں پر قبضے سے روکنے کے لیے ایک تباہ کن ایف35 اور ایف 16F جنگی طیاروں کے ساتھ اپنی بحریہ کے فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرے گا۔ امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ مزید حفاظتی تدابیر کے طور پر خلیج سے گذرنے والے تجارتی ٹینکروں پر سمندری دستے اور بحریہ کے فوجیوں کو تعینات کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *