Turkey: 47 includin main accused arrested over Istanbul explosionتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس ) ترکی میں حکام نے استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں ہونے والے دھماکے کے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔استنبول پولیس نے کہا ہے کہ ترکی کی پولیس نے وسطی استنبول میں ہونے والے دھماکے کے الزام میں، جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 81 زخمی ہو گئے تھے، 47 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ افراد میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے دھماکہ کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل46 دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ان کے مطابق استنبول کی پولیس مرکزی ملزم کی نشان دہی اور گرفتاری میں کامیاب رہی ہے۔واضح رہے کہ اتوار کو استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں ہونے والے دھماکے میں6 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور ایک 9سالہ بچی بھی شامل تھی۔

وزیرِ صحت فخر الدین قوجہ کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے 81 افراد میں سے 39 کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان کے مطابق 42 افراد ابھی انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیر علاج ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔پیر کو وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ دھماکا کالعدم کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے نے کرایا۔واضح رہے کہ پی کے کے کو امریکہ، کناڈا اور یورپی یونین میں بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

کوبانی شہر شام کے صوبہ حلب میں واقع ہے جس کا سرکاری نام عین العرب ہے۔ یہ شہر کرد عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔استقلال اسٹریٹ میں شام کے چار بج کر 20 منٹ پر دھماکا ہوا تھا جس کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور یہاں موجود دکانیں اور ریستوراں بند کر دیے گئے تھے۔’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق ابتدائی معلومات کی بنیاد پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دھماکے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔خبر رساں ادار ے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتوار کو ترکی کے وزیرِ انصاف بیکر بوزداج کا دھماکے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ایک خاتون استقلال اسٹریٹ میں لگ بھگ 40 منٹ تک ایک بینچ پر بیٹھی رہیں، جیسے ہی وہ اٹھیں اس مقام پر دھماکا ہو گیا۔انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اس دھماکے کے حوالے سے امکانات ہیں کہ یا تو خاتون کے بیگ میں رکھے بم میں خود کار انداز میں دھماکا ہوا یا پھر کسی نے خاتون کے بیگ میں موجود بم میں دھماکے کے لیے ریموٹ کنٹرول کا استعمال کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *