استنبول: (اے یو ایس ) ترکی نے اسرائیلی سیاحوں کو قتل کرنے کے شبہ میں ایرانی خفیہ اداروں کے لیے خدمات انجام دینے والے آٹھ افراد کو استنبول میں گرفتار کیا ہے۔آئی ایچ اے نامی مقامی ترک خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے جانے والے تمام آٹھ افراد کو گذشتہ ہفتے استنبول کے مقبول علاقے بیوگلو ضلع سے حراست میں لیا گیا۔گذشتہ ہفتے ترکی نے وہاں موجود اپنے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ استنبول میں موجود ایرانی ایجنٹوں کے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر فی الفور ملک سے نکل جائیں۔
ترکیہ اور ایران کے درمیان تعلقات پر ایک عرصے سے جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ تاہم تہران میں رونما ہونے والے چند ہائی پروفائل واقعات کے بعد تہران ان کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید کرنے لگا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کا دعوی ہے کہ 22 مئی کو سپاہ پاسداران انقلاب کے کرنل صیاد خدائی کو اسرائیل نے قتل کیا۔ آئی ایچ اے کے مطابق ایران نے سیاحوں، طلبہ اور کاروباری افراد کے روپ میں اپنے خفیہ ایجنٹ بھیجے ہیں تاکہ انہیں خدائی کے قتل کے بدلے میں اسرائیلی شہریوں کو مارنے کا ٹاسک سونپا جا سکے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق قتل کی واردات کے لئے دو دو افراد پر مشتمل چار گروپ تشکیل دیے گیے جو اپنے اسرائیلی اہداف کا بہتر طور پر پیچھا کر سکتے ہیں۔قاتلوں کی ٹیم میں شامل حملہ آور بیوگلو ہوٹل کی دوسری اور چوتھی منزل سے بھاری اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا۔مبینہ گرفتاریوں کا اعلان اگلے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ کے دورہ انقرہ کے موقع پر کیا جاتا تھا۔ یائر اگلے چند دنوں میں اسرائیل کے عبوری وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے والے ہیں۔کئی برسوں کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات کے اندر بہتری آنا شروع ہوئی ہے اور سیاحت کو دونوں ملکوں کی معیشت میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 