Turkey forcibly deports Syrian refugees, Human Rights Watchتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس ) دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ترکی میں آباد ہے، جن میں زیادہ تر شام سے تعلق رکھنے والے یعنی3.6 ملین پناہ گزیں ہیں جو اپنے ملک میں دہائیوں سے جاری جنگ سے فرار ہو کر ترکی آگئے ہیں۔لیکن اب ترکی ،انہیں جبراً واپس ان کے ملک شام بھیج رہا ہے۔انسانی حقوق کے ایک سرکردہ گروپ نے کہا ہے کہ چھ ماہ کے دوران سینکڑوں شامی مردوں اور لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے، انہیں زد و کوب کیا گیا اور زبردستی واپس وطن بھیج دیا گیا۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ترکی میں عارضی تحفظ کے تحت مقیم تارکین وطن کے ساتھ ایسا برتاؤ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ترک حکومت ماضی میں پناہ گزینوں کو زبردستی شام واپس بھیجنے کے الزامات کو مسترد کر تی رہی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ شام کے پناہ گزینوں نے تحقیقات کرنے والوں کو بتایا کہ ترک حکام نے انہیں ان کے گھروں، کام کے مقامات اور سڑکوں پر گرفتار کیا ، انہیں مارا پیٹا گیا ، اور انہیں شام واپس جانے کے لیے رضامندی کے دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔

شام کے پناہ گزینوں نے بتایا کہ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر شام کی سرحد تک لے جایا گیا جو بعض اوقات 21 گھنٹے کا سفر ہوتا تھا جس کے بعد انہیں بندوق کی نال پر زبردستی سرحد پار کروائی گئی۔ہیومن رائٹس واچ میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کے حقوق پر تحقیق کرنے والی نادیہ ہارڈمین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترک حکام نے سیکڑوں بے سہارا پناہ گزینو ں کو واپس شمالی شام جانے پر مجبور کر دیا ہے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ حالانکہ انقرہ اس بین الاقوامی معاہدے کا پابند ہے جوپناہ گزینوں کو ایسی جگہ واپس بھیجنے سے منع کرتا ہے جہاں انہیں ایذا رسانی، اذیت یا جان جانے کا حقیقی خطرہ لاحق ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *