Turkey: Republican People's Party rejects the recent amendments in citizenship lawتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس )ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے غیر ملکیوں بالخصوصی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک کی شہریت دیے جانے سے متعلق قوانین میں ترامیم پر اپوزیشن کی جماعتیں چراغ پا ہیں۔اپوزیشن کی ایک مرکزی جماعت ریپلکنز پیپلز پارٹی جس کے سربراہ کمال قلیچ دار اولو ہیں اس کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پارٹی نے حالیہ ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی جماعت نے ایک دوسری جماعت کی اس تجویز کی حمایت کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہریت حاصل کرنے والوں کو آئندہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔

تجویز میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو شہریت حاصل کرنے سے 10 برس تک ووٹنگ کا حق نہ دیا جائے۔ یہ تجویز سرکاری طور پر پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوئی ہے۔اس تجویز کی وجہ یہ اندیشہ ہے کہ نئی شہریت حاصل کرنے والے افراد انتخابات میں ممکنہ طور پر اردوغان کی حکمراں جماعت اور اس کی واحد حلیف جماعت کی حمایت کریں گے۔انتخابی سپورٹ کے علاوہ ترکی کے صدر غیر ملکیوں کی شہریت کے قانون میں کی گئی ترامیم سے جو مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں ان میں کرنسی کے بحران پر قابو پانا شامل ہے۔ ترک کرنسی لیرہ کی قدر میں ڈالر کے مقابل ریکارڈ گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ڈالر کی مالیت 18 ترک لیرہ سے بڑھ گئی۔ اردوغان کی جانب سے 3 روز قبل اعلان کردہ ترمیم کے مطابق اب غیر ملکی افراد محض ترکی کے مرکزی بینک کو غیر ملکی کرنسی کی خطیر رقم فروخت کرنے سے ہی ترکی کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام لیرہ کی قیمت میں عارضی استحکام پیدا کر سکتا ہے۔نئی ترامیم کے تحت صدر اردوغان نے شہریت کے طالب غیر ملکیوں کے لیے ترکی کے کسی بینک میں تین سال تک 20 سے 30 لاکھ ڈالر جمع رکھنے کی ضرورت ختم کر دی ہے۔ اب یہ رقم صرف 5 لاکھ ڈالر کر دی گئی ہے۔اسی طرح اردوغان نے ترکی میں دس لاکھ ڈالر مالیت کی جائیدار کی خریدار کی شرط بھی ختم کر دی ہے۔ اب یہ مالیت صرف 2.5 لاکھ ڈالر کر دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *