انقرہ:ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کا، جسے ایم آئی ٹی بھی کہا جاتا ہے، کہنا ہے کہ اس نے ملک میں موساد کے ایک گروہ کو بے نقاب کر کے اس کے سات ارکان کو گرفتار کر لیا۔ حکومت حامی روزنامہ صباح کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ترکی میں عرب جاسوسوں کو لبنان اور شام میں اپنے اہداف سے متعلق خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اہداف میں بیروت میں حزب اللہ کی ایک عمارت بھی ، جس میں اعلیٰ فوجی عہدیداران اور سیاسی شخصیات رہائش پذیر تھیں، شامل تھی۔
ایم آئی ٹی اور استنبول پولیس کی مشترکہ کارروائی میں جاسوسی میں ملوث 56 افراد پکڑے گئے جو مبینہ طور پر آن لائن طریقہ کار کے ذریعہ غیر ملکی شہریوں کی سوانح حیات کے حوالے سے خفیہ معلومات ، جی پی ایس کے ذریعے نقل و حرکت، وائی فائی آلات پر مبنی محفوظ پاس ورڈ نیٹ ورک میں ہیک کرنا اور نجی مقامات تلاش کرنے میں مصروف تھے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ انہیں بنکاک اور دیگر بین الاقوامی مقامات پر تربیت دی گئی تھی۔
موساد جاسوس جن میں ایک فلسطینی اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے شامل تھے، ممالک، اپنے سہولت کاروں سے بات چیت کرتے تھے۔ حماس کو ، جسے ترکی دہشت گرد تنظیم نہیں مانتا اور جس کے ترکی میں کئی دفاتر ہیں ، اسرائیلی انٹیلی جنس کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ شامی، لبنانی اور ایرانی باشندے ترکی میں رہتے ہیں اور ملک بھی میں گھومتے پھرتے اور تفریح کرتے رہتے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 