جنیوا:(اے یو ایس ) ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے فن لینڈ اور سویڈن کی جانب سے الحاق کے لیے جمع کرائی گئی دو درخواستوں کے لیے اتحاد کے دروازے کھولنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔اسٹولٹن برگ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا کہ وہ اردوغان کے ساتھ متفق ہیں کہ تمام اتحادیوں کے سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔
اس تناظر میں اردوغان نے سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک کودہشت گرد تنظیموں کی سیاسی اور مالی مدد کے طور پر بیان کیے جانے والے اقدامات کو ختم کرنے اور انہیں مسلح کرنا بند کرنے کی ضرورت ہے۔اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ہفتے کو اطلاع دی ہے کہ ایردوآن نے اینڈرسن کے ساتھ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) میں شمولیت کی درخواست پر تبادلہ خیال کیا۔ انقرہ نے حال ہی میں اس اتحاد میں شامل ہونے کے سویڈن اور فن لینڈ کو مسترد کردیا تھا۔ایجنسی نے مزید کہا کہ ایردوآن نے اینڈرسن پر اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے ملک کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد دفاعی صنعتوں میں ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
اناطولیہ کے مطابق ترک صدر نے سویڈن کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے انقرہ کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کر دستان ورکرز پارٹی (PKK) اور شام اور عراق میں اس کی توسیع کے بارے میں ان کے ملک کے خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔بعد ازاں اناطولو ایجنسی نے کہا کہ اردوغان نے اپنے فن لینڈ کے ہم منصب ساو¿لی نینیسٹو کے ساتھ فون پر فن لینڈ کی ناٹو میں شمولیت اور دو طرفہ تعلقات پر بات کی۔ ایجنسی نے ترک صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناٹو اتحادی کے لیے خطرہ بننے والی دہشت گرد تنظیموں کو نظرانداز کرنے کا نقطہ نظر دوستی اور اتحاد کے جذبے کے مطابق نہیں ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 