Turkey 'will not allow' Sweden, Finland joining NATO: Erdoganتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس ) ترک صدر رجب طیب ا اردوغا ن نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ سویڈن اورفن لینڈ کی ناٹو کی رکنیت کے لیے درخواست کی منظوری نہیں دیں گے۔دریں اثنا سویڈش وزارتِ خارجہ نے اعلان کیاہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کے سینیر نما ئندے دونوں ممالک کی ناٹو میں شمولیت پرانقرہ کے اعتراضات پر تبادلہ خیال کے لیے”جلد“ترکی جائیں گے۔لیکن صدر اردوغان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے سفارتی وفود کواپنی ناٹو کی ر±کنیت کے لیے درخواست کی منظوری کے لیے ترکی کو قائل کرنے ترکی آنے کی زحمت نہ کریں۔

طیب اردوغان نے کہا کہ سب سے پہلے توہم ان لوگوں کو’ہاں‘ نہیں کہیں گے جو اس عمل کے دوران میں ترکی پر پابندیاں عائد کرتے ہیں مگر وہ سکیورٹی کی تنظیم ناٹو میں شامل ہوناچاہتے ہیں ۔دونوں نارڈک ممالک نے باضابطہ طورپرتصدیق کی ہے کہ وہ ناٹو کی ر±کنیت کے لیے جلد درخواست دیں گے۔وہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اس فیصلے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ روس سے درپیش خطرے سے سدِجارحیت کے طور پر فوجی اتحاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اس تاریخی اقدام سے انھوں نے گذشتہ کئی دہائیوں پر محیط کسی فوجی اتحاد میں شامل نہ ہونے کے اپنے فیصلے کو بھی تبدیل کردیا ہے۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اسے دونوں ممالک کی ناٹومیں شمولیت پراعتراضات ہیں۔اس نے ان پر کرد علیحدگی پسند جنگجوو¿ں کی حمایت کرنے اورانھیں پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ترکی نے کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) اور اس سے سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے اور وہ بالخصوص سویڈن سے درجنوں مشتبہ دہشت گردوںکو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ سویڈن نے ہنوز ایسا نہیں کیا ہے۔اناطولوکے مطابق ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کو ناٹو میں اتحادی نہیں ہونا چاہیے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ترکی نے فن لینڈ اورسویڈن دونوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *