کابل: امارت اسلامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ترک سرمایہ کاروں نے افغانستان کے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائی ہے۔ امارت اسلامیہ کی وزارت کان اور پیٹرولیم نے ایک بیان میں کہا کہ ترک سرمایہ کاروں نے شہاب الدین دلاور سے ملاقات کے دوران افغانستان میں کانوں اور معدنیاتی پروسیسنگ سہولتوں کے لیے فنڈز کی درخواست کی۔وزارت کے مطابق ترک سرمایہ کاروں نے مبینہ طور پر افغان معدنی وسائل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ۔
دلاور نے ترک سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور ان کے ساتھ ملک کے کان کنی کے قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کرنے کا وعدہ کیا۔ افغانستان میں سونا، تانبا، لوہا اور قیمتی پتھر ، لیتھیم اور نایاب زمین وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق ملک میں 3 ٹریلین ڈالر تک کے معدنی ذخائر موجود ہیں لیکن ملک میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ اور تنازعات اور انفراسٹرکچر کی کمی نے ان معدنی وسائل کو صحیح طریقے سے سرمایہ کاری اور نکالنا مشکل بنا دیا ہے۔
نتیجے کے طور پرمقامی جنگجوؤں اور غیر قانونی مسلح تنظیموں نے صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ملک میں بہت سی بارودی سرنگوں اور ذخائر کو اسمگل کیا۔جب سے طالبان نے ملک کی عنان حکومت سنبھالی ہے ملک میںتسلیم شدہ حکومت نہیں ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سر ملک کے معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 