انقرہ:ایک ماہر کی پیشین گوئی کے مطابق آئندہ چند روز میں ترکی میں گرمی کی ایک غیر معمولی لہر آنے والی ہے جس کا طویل عرصہ تک پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ر رکھنے کا خدشہ ہے۔ پیش گوئی کے مطابق شام کی سرحد سے متصل جنوب مشرقی علاقے میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس (122 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مغربی ازمیر کی باکرائے یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ کی سربراہ پروفیسر سرمین تاغیل نے انادولو ایجنسی (اے اے) کو بتایا کہ جولائی کے آغاز سے عالمی اوسط درجہ حرارت غیر معمولی سطح تک بڑھ گیا ہے جس کی تاریخ انسانی میں کبھی نہیں دیکھی گئی ۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام حصوں میں یکساں عالمی اوسط درجہ حرارت میں اس اضافے کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ بحیرہ روم کا طاس علاقہ ،جس میں ترکی واقع ہے، ان مقامات میں سے ایک کے طور پر توجہ مبذول کرواتا ہے جہاں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔
شام کی سرحد سے متصل جنوب مشرقی صوبہ شرناک کے شہر سیزر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 جولائی 2021 کو 49.1 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جو ترکی میں گرم ترین درجہ حرارت کا ریکارڈ ہے۔ تاہم اس وقت ترکی میں جیسی گرم لہر چل رہی ہے اس سے یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ تاغیل نے پیش گوئی کی ہے کہ اسی علاقے میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 