واشنگٹن(اے یو ایس ) امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں ہر کسی کو زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہاں بھی حالات مثالی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بڑے ملک میں غالباً ہو سکتے ہیں۔امریکہ میں زندگی بہت سی دیگر سہولتوں کے لحاظ سے آسان سہی مگر اس ملک میں صحتِ عامہ تک رسائی ہر ایک کو میسر نہیں ہے۔اور بات آ جائے بچے اور ماں کی صحت کی تو کسی سہولت کے کم ہونے کی گنجائش کہاں رہتی ہے۔لیکن اس کے باوجود “جرنل آف دی امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن” میںشائع ہونے والی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں غیر مساوی تناسب میں پورے امریکہ میں زچگی کے دوران اموات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کی ایک حالیہ تحقیق کےمطابق گزشتہ برس امریکہ میں سیاہ فام حاملہ عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے دوران اموات کی شرح سفید فام اور ہسپانوی نڑاد خواتین کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔وجہ کچھ بھی ہو، بہترین سہولتوں کے حامل اس ملک میں اس شرح کا پایا جانا لمحہ فکریہ ہے۔
حال ہی میں امریکی سائنسی جریدے جرنل آف امیریکین میڈیکل ایسوسی ا یشن میں شائع ہونے والے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ کیسے امریکہ کی کچھ مخصوص ریاستوں میں زچگی کے دوران شرح اموات کے تناسب میں اضافہ ہوااور کچھ مخصوص آبادیوں میں جہاں پہلے ہی عدم مساوات پائی جاتی ہے ، وہاں زچگی کے باعث ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوا۔اسٹڈی کے مطابق سیاہ فام ماو¿ں میں اموات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے جب کہ اموات میں سب سے زیادہ اضافہ امریکہ کے آبائی قبیلوں اور ریاست الاسکا کی ماو¿ں میں پایا گیا۔زچگی کے دوران سیاہ فام عورتوں کی شرح اموات میں اضافے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ اس میں متعدد عوامل کارفرما ہیں ،جیسے کہ معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں کمی، معاشی حالات اورنسل پرستی پر مبنی تعصب۔ ان ماو¿ں کو صحت کے لیے مناسب مواقع حاصل کرنے میں رکاوٹ کا باعث ہوتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مرکزی محققین کا کہنا ہے کہ اس عدم مساوات کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے اور اسے لمحہ فکریہ جاننا چاہیے کہ عدم مساوات کی وجہ محض صحتِ عامہ کی سہولتوں تک رسائی کا مسئلہ نہیں ، بلکہ اس کا تعلق نظام میں نسل پرستی ، پالیسیوں اور سسٹم سے ہے جو لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے سے روکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ سات برسوں میں متعدد ملک، زچہ اور بچہ میں اموات کی شرح پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔تاہم ماہرین اور ریسرچرز کا کہنا ہے کہ کو وڈ نائنٹین کی عالمی وبا، معاشی حالات ، غربت ، تنازعات اور دنیا بھر میں مختلف قدرتی آفات نےپہلے سےدباو¿ کے شکار صحتِ عامہ کے نظام پر مزیدباؤ ڈالا ہے۔حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ 2015کے بعد سے دنیا بھر میں زچگی کے دوران سالانہ دو لاکھ نوے ہزار خواتین کی اموات ہوئ? اور پیدائش کے ایک ماہ کے اندر 23 لاکھ بچے زندگی کی جنگ ہار گئے۔ان اعدادوشمار کو دیکھیں تو گویا ہر ایک سیکنڈ کے بعد ایک موت واقع ہوتی ہے اور یہ اموات عام طور پر ایسی طبی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں جن پر مناسب نگہداشت اور علاج کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے دنیا بھر میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت میں بہتری کےلیے عالمی سطح پر پالیسیوں کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔وائس آف امریکہ کی صبا شاہ خان سے انٹرویو میں ڈاکٹر بھٹہ کا کہنا تھا “کووڈ 19 کی وبا کے دوران جب لوگوں کی ہیلتھ کئیر تک رسائی اور حمل میں دیکھ بھال ممکن نہ رہی اور نہ ہی نو زائیدہ بچوں کی دیکھ بھال ممکن رہی تو اس سے پیچیدگیاں بڑھ گئیں۔وہ کہتے ہیں یہ ایک وجہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مائیں جو ذہنی انتشار کا شکار ہوتی ہیں اور تشدد کا سامنا کرتی ہیں اس کا منفی اثر بھی بچے اور ماں کی صحت پر پڑتا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 