بیجنگ: چین کے مسلم اکثریتی اویغور علاقے کی ایک کاؤنٹی میں ہر 25 میں سے ایک شخص کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق دنیا کے کسی بھی خطے میں قید کی سزا پانے والوں کی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے افشا ہونے والے اعداد و شمار کے تجزیے میں صرف کوناشہر کاؤنٹی میں ہی10,000 سے زیادہ اویغوروں کے نام شامل ہیں۔ یہ جنوبی سنکیانگ صوبے کی درجنوں کاؤنٹیوں میں سے ایک ہے۔ حالیہ برسوں میں، چین نے مسلم اقلیتوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاو¿ن کیا ہے جسے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کہتے ہیں۔
2019 میں، چینی حکام نے قلیل مدتی، ماورائے عدالت حراستی کیمپوں کو بند کرنے کا اعلان کیا جہاں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان اویغوروں کو بغیر کسی الزام کے رکھا جاتا تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں اویغور اب بھی دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے قید ہیں۔ روزیکاری توہاٹی، ایک اویغور کسان، جنہیں بہت نرم گفتار اور ایک پیار کرنے والے خاندان کے رکن کے طور پر جانا جاتا ہے وہ بھی ایسے الزام میںجیل میں ہیں جس کا سر پیر ہی نہیں ہے ۔ روزیکاری توہاٹی کو، جو تین بچوں کے باپ ہیں، مذہب میں کبھی بھی زیادہ دلچسپی نہیں رہی ہے پھر بھی وہ مذہبی انتہا پسندی کے جرم میں داخل زنداں کر دیے گئے۔جس کی وجہ ان کے ایک رشتہ دار مہری گل موسیٰ کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ توہاٹی مذہبی انتہا پسندی کے الزام میں پانچ سال سے جیل میں بند ہیں۔
اس فہرست سے موسیٰ کو معلوم ہوا کہ توہاٹی کے چھوٹے بھائی ابلیکم توہاٹی کو بھی سماج دشمن قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سماجی نظام کو بگاڑنے اور درہم برہم کرنے کے لیے عوام کو متحد کررہے ہیں۔ ساتھ ہی توہاٹی کے پڑوسی کو بھی ایسے ہی الزامات کے لیے 11 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ کوناشہر کاؤنٹی میں 2,67,000 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ فہرست میں شامل زیادہ تر افراد کو 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں طویل مدت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ماہرین نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو اویغور ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم چینی حکام اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ سنکیانگ کے ترجمان الیجان عنایت نے کہا کہ اویغوروں کو قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا