UK must have military capable of fighting in Europe, says army headتصویر سوشل میڈیا

لندن: (اے یو ایس ) برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر پیٹرک سینڈر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے یورپ کے میدان جنگ بننے کا خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے تیار رہنا ہو گا ۔ واضح رہے 1941 کے بعد نئے برطانوی آرمی چیف نے پہلی بار اپنی سرزمین پر جنگی خطرے کے سائے میں فوجی کمان سنبھالی ہے۔

جنرل سینڈر نے کہا ” یوکرین پر روسی حملے کے بعد ہمارا یہ اولیں ہدف ہے کہ ہم برطانیہ کی حفاظت کے لیے اپنی زمین پر جنگ جیتنے کے لیے تیاری میں رہیں اور اس حوالے سے روسی خطرے کے پیش نظر اپنی فوجی قوت کو مزید طاقت دیں۔ کیونکہ 24 فروری کے بعد دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ اب ایک ایسی فوج کی ضرورت ہے جو لڑنے کی بہترین صلاحیت کی حامل ہو اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کو جنگ میں شکست دے سکے۔

”برطانوی فوجی سربراہ نے زور دے کر کہا” ہمیں اپنے فوجی تحرک اور ایک جدید فوج کے طور پر استعداد کو اور بڑھانا ہو گا تاکہ ہم روس کو یورپ پر کسی مزید قبضے سے روک سکیں۔” ہماری نسل کو یورپ کے اندر ایک بار پھر جنگ لڑنا ہو گی۔ واضح رہے نیٹو ممالک اور یورپی یونین نے یوکرین پر روسی حملے کے بعد سفارتی سطح پر تصادم کو روکنے کی کوششیں کی ہیں۔ مگر 100 دن سے زیادہ گذر جانے کے باوجود کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔اگرچہ مغربی ممالک نے یوکرین کے لیے اس دوران کروڑوں ڈالر کا جنگی آلات بھیجے ہیں مگر اس امر کی بھی پوری کوشش کی ہے کہ جوہری قوت کے حامل روس کے خلاف جنگ کا براہ راست ذمہ دار نہ بنیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *