لندن(اے یو ایس)برطانیہ نے ایران میں برطانوی نژاد ایرانی شہری علی رضا اکبری کی پھانسی کو وحشیانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کسی سزا کے بغیر نہیں رہے گا۔اس سے قبل ایرانی عدلیہ کی خبررساں ایجنسی میزان نے سابق نائب وزیر دفاع کی پھانسی کی خبر دی تھی۔انھیں برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا کہ ”میں ایران میں برطانوی نڑاد شہری علی رضا اکبری کی پھانسی پر صدمے میں ہوں“۔انھوں نے کہا کہ ”یہ ایک وحشیانہ اور بزدلانہ عمل تھا جسے ایک وحشی حکومت نے انجام دیا۔اس نے اپنے ہی لوگوں کے انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں کیا“۔
برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے بھی ٹویٹ کیا کہ ‘اس وحشیانہ فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ یہ عمل چیلنج کیے بغیر نہیں رہے گا“۔دریں اثناءامریکا نے بھی ایران میں برطانوی نڑاد علی رضا اکبری کی پھانسی کی مذمت کی ہے۔لندن میں تعینات امریکی سفیر نے اکبری کو تختہ دار پرلٹکانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’خوف ناک‘ قراردیا ہے۔امریکی سفیرجین ہارٹلے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا کہ ایران میں علی رضا اکبری کی پھانسی خوف ناک اور افسوس ناک ہے۔انھوں نے کہا کہ ”امریکااس وحشیانہ کارروائی کی مذمت میں برطانیہ کے ساتھ ہے۔میرے خیالات واحساسات علی رضا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں“۔ادھر ایران نے تہران میں تعینات برطانوی سفیر کو طلب کرلیا ہے۔سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق برطانوی سفیرسائمن شیرکلف کو برطانیہ کی ایران میں غیرروایتی مداخلت بشمول قومی سلامتی کے امور میں دخل اندازی کے حوالے سے طلب کیا گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ایک عہدہ دارکا حوالہ دیتے ہوئے ارنا نے کہا کہ”برطانوی حکومت کو ایران کی قومی سلامتی پر حملے کا باعث بننے والے غیرروایتی ابلاغیات پرجواب دہ ہونا چاہیے“۔اس عہدہ دار نے کہا کہ ”اس طرح کے غیر قانونی اور مجرمانہ اقدامات کا تسلسل کسی بھی طرح سے برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔برطانوی حکومت کو اپنی غیر روایتی اور مداخلت پسند سوچ کو جاری رکھنے کی ذمہ داری کے نتائج کو قبول کرنا چاہیے“۔’میزان‘ کے مطابق سابق نائب وزیردفاع اکبری کوبرطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے لیے جاسوسی کے جرم میں پھانسی دے گئی ہے۔وہ ایران اوربرطانیہ کی د±ہری شہریت کے حامل تھے۔انھیں 2019ءمیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اوران کی سزائے موت کا اعلان گذشتہ بدھ کوکیا گیا تھا۔انھوں نے سابق صدر محمد خاتمی (1997-2005) کے دورمیں نائب وزیردفاع کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
تصویر سوشل میڈیا 