Ukraine crisis: all speculations of defence analysts proves wrongتصویر سوشل میڈیا

شیخ منظور احمد
نئی دہلی قیف (اے یوایس)یوکرین کا جنگ طول پکڑتا جارہا ہے اور اس سے نہ صرف جنگ زدہ ملک کو بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں باشندوں کو دوسرے ملکوں میں لمبے عرصے کے دوسرے ملکوں میں پناہ لینی پڑرہی ہے۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کااندازہ تھا کہ اگر روس دویاتین دن کے اندر ہی دارالخلافہ قیف پر قبضہ کرلے گا لیکن آج جنگ کو 10دن سے بھی زیادہ ہوگئے اور روسی فوجیوں کو اس پر قبضہ کرنے میں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیکن اس دوران روس کی بمباری اور میزائل حملوں سے نہ صرف فوجی تنصیبات تباہ ہوگئیں بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب تک 12لاکھ سے زیادہ یوکرینی باشندوں نے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لی ہے۔اور اس کے علاوہ دوسرے ملکوں کے باشندے بھی وہاں سے بھاگ رہے ہیں تاکہ وہ اپنی جان بچاسکے۔اس نازک صورت حال میں بھی کئی ہزار غیرملکی باشندے وہاں پر پھنس گئے ہے۔

روس کے صدر ولادیمیرپوتین یہ تاثردینا چاہتا تھا کہ ان کی لڑائی یوکرین کے عوام کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہاں کی حکومت سے ہے جو مغربی اتحادیوں کے ساتھ اس کے لیے سیکورٹی خطرہ بن گئی ہے۔اسی لیے روس نے پہلے نہ صرف اہم تنصیبات جن میں نیوکلیئر پلانٹ شامل ہے پرقبضہ کرنے کا پلان بنایا بلکہ یوکرین کے دفاعی صلاحیتیوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کی، حالانکہ اس کارروائی میں روس کے بھی 6-7سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے اور جنگی طیاروں کے علاوہ ٹینکوں اور بکتربند گاڑیون کو بھی نقصان پہنچا۔ یوکرین ے لوگوں کو بھی حکوت کا ساتھ دیا اور ہتھیار اٹھاکر ہرجگہ روسی فوجیوں سے مزاحمت کی، جس سے اہم شاہراہوں پر قبضے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن کچھ دنوں سے روس نے ریلوے لائن ،اسپتال اورسرکاری بلڈنگوں کو بھی اپنا نشانہ بنارکھا ہے جس سے حالات مزید سنگین ہوگئے ہیں۔

دونوں ملکوں نے بات چیت کے تین دور کئے اور اس میں کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، ماہرین کے مطابق روس کے صدر زیلنسکی کی حکوت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور وہاں پر ایسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو روس نواز رہے اور اس کے اشاروں پر ناچتی رہے۔حالانکہ مغربی ملکوں نے اس جنگ میں عملًا کوئی شرکت نہیں کی لکہ یوکرین ہرطرف کی فوجی اور مالی معاونت کی، اس کے علاوہ روس پر بھی سخت معاشی پابندیاں لگائی۔حالانکہ فرانس ، جرمنی اور چین اس جنگ کو روکنے کی کوشش میں ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔روس کے لیے یہ جنگ اپنی انا کا مسئلہ بن گیا اور وہ جب تک کوئی بھی جنگ بندی کے فارمولہ کو قبول نہیں کرے گا جب تک ان کا مطالبہ پورا نہ ہو۔روس نے بھی یہ دھمکی کہ اگر انہیں مجبور کیا تو وہ نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا، امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اس جنگ کو طول دینے کے حق میں نہیں ہے اور اسی لیے انہوں نے یوکرین کے اس تجویز کو نامنظور کیا، جس میں انہوں نے یوکرین کو نوفلائی زون قرردینے کی بات کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *