جنیوا: (اے یو ایس ) یورپ کے فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ جیسے بڑے ملکوں کے رہنماو¿ں نے یوکرین کی یورپ یونین میں شامل ہونے کے حوالے سے جس طرح اس کی وکالت کی اور پھر یورپی یونین میں شمولیت کے لیے یوکرین کو باقاعدہ نمائندہ حیثیت دینے کے لیے یورپی یونین کی ایکزیکٹیو کی سفارش کے بعد اب یوکرین یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے قریب تر ہو گیا ہے۔ اب یورپی یونین لیڈران یوکرین کو باقاعدہ نمائندہ حیثیت دینے کے حوالے سے آئندہ ہفتہ ہونے والے سربراہ اجلاس میں حتمی فیصلہ کر لیں گے۔
یورپی یونین کی صدر ارسولا وون ڈر لئین نے، جو ٰوکرین کے پرچم کے رنگوں والے لباس میں ملبوس تھیں، یہ اعلان فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ جیسے بڑے ملکوں کے رہنماو¿ں کے اس بیان کے ایک روز بعد کیا جس میں ان ملکوں نے یورپی یونی کی رکنیت کے لیے یوکرین کی درخواست کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے فوری طور پر نمائندہ حثییت دے دینی چاہیے۔یوکرین کے شہر کیﺅ میں ایک بریفینگ کے دوران جرمن چانسلر اولف شلز نے کہا کہ یوکرین یورپی خاندان کا حصہ ہے۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو یورپی یونین میں شامل ہونے کی تمام شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔
دریں اثنا یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے روس کی مسلسل جارحیت کو یورپی اتحاد کے خلاف جنگ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف سب سے موثر ہتھیار یورپی ممالک میں اتحاد ہی ہے۔ولادیمیر زیلنسکی نے ایک مرتبہ پھر یوکرین کو فروی طور پر بھاری ہتھیار فراہم کرنے کی استدعا کی اور کہا ان ہتھیاروں کی مدد سے یوکرین اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کر سکتا ہے اور روسی افواج کو پیچھے دھکیل سکتا ہے ۔
تصویر سوشل میڈیا 