لندن: (اے یوایس) برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر سرکیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کا استعفیٰ قوم کے لیے خوشخبری ہے۔سرکیئر اسٹارمر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس منصب کے لیے وہ کبھی بھی موزوں نہ تھے۔لیبر لیڈر نے کہا کہ بورس جانسن جھوٹ، فریب اور اسکینڈلز کے ذمہ دار ہیں، وہ تمام افراد جنہوں نے بورس جانسن کا ساتھ دیا ان کے لیے شرمندگی کا مقام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کنزر ویٹیو پارٹی کے 12 سالہ اقتدار میں ملکی ترقی جمود کا شکار رہی ہے ۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ کے 50 ارکان نے استعفے دے دیے ہیں ۔برطانیہ میں 90 برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کابینہ نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہی وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔واضح ہو کہ جانسن نے، جن کا مختلف اسکینڈلز کے باعث ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کرنے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا ناگزیر ہو گیا تھا،گذشتہ روز عہدے سے مستعفی ہو نے کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگلے وزیراعظم کے انتخاب تک وہ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے استعفیٰ دینے کے بعد لندن میں پریس کانفرنس کی اور اس میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی تصدیق کی اور نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کہا ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مجھے کہا گیا ہے کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب تک کام جاری رکھوں اس لیے میں نے نئی کابینہ تشکیل دے دی ہے ۔
تصویر سوشل میڈیا 