صنعا:(اے یو ایس) یمن کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے یمنی حوثیوں کے ذریعہ بھرتی کیے گئے تقریباً2000بچے جنوری 2020 سے مئی 2021 کے دوران مارے گئے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بچوں کی بھرتی کرنے والے حوثی عناصر پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ڈرون طیارے ، میزائل اور دھماکا خیز آلات اکٹھا کیے۔اسی طرح واضح کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ برس بڑے پیمانے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھائیں۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مندوب مروان نعمان نے ستمبر 2021ءمیں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے 2014ءکے بعد سے 35 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کیا۔
ان میں 17% کی عمر 11 برس سے کم ہے جب کہ 6700 سے زیادہ بچے اب بھی لڑائی کے محاذوں پر موجود ہیں۔یمن میں انسانی حقوق کا نیٹ ورک یہ تصدیق کر چکا ہے کہ یمنی بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے 20977 واقعات سامنے آئے۔ علاوہ ازیں جنوری 2017ءسے مارچ 2021ءتک حوثیوں کے ہاتھوں 43 ہزار سے زیادہ یمنی بچے جبری ہجرت اور نقل مکانی کا شکار ہوئے۔
تصویر سوشل میڈیا 