UN allows Muttaqi to travel to Pakistan and China to meet ministersتصویر سوشل میڈیا

نیو یارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے پیر کے روز افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی کو آئندہ ہفتے پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے لیے افغانستان سے پاکستان جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا۔متقی طویل عرصے سے سلامتی کونسل کی پابندیوں کے تحت سفری پابندی، اثاثے منجمد اور ہتھیاروں کی پابندی کا شکار ہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں چین ، فرانس ، جرمنی ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، ایران ، جاپان ، قازقستان ، کرغزستان ، ناروے ، پاکستان ، قطر ، روس ، سعودی عرب ، تاجکستان ، ترکی ، ترکمانستان ، متحدہ عرب امارات ، برطانیہ ، امریکہ ، ،یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم شرکت کر رہے ہیں۔15 رکنی سلامتی کونسل کی طالبان پابندیوں کی کمیٹی کو ارسال کیے گئے ایک مکتوب کے مطابق، پاکستان کے اقوام متحدہ کے مشن نے متقی کو 6 سے 9 مئی کے درمیان پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کے لیے پاکستان و چین کا سفر کرنے کے لیے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔

چینی اور پاکستانی حکام دونوں کہہ چکے ہیں کہ وہ اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے ، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا جزو ہے، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے میں امارت اسلامیہ کی قیادت والے افغانستان کا خیر مقدم کریں گے، ۔سلامتی کونسل کی کمیٹی نے متقی کو افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فوری امن، سلامتی اور استحکام کے معاملات پر بات چیت کے لیے گزشتہ ماہ ازبکستان جانے کی اجازت دی۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے پیر کو دوحہ میں مختلف ممالک کے افغانستان سے متعلق خصوصی ایلچی کے ساتھ دو روزہ اجلاس کا آغاز کیا ۔گوٹیریس کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک ڈی لا ریویرنے کہا کہ بند کمرے کی میٹنگ میں کلیدی مسائل جیسے انسانی حقوق – خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق – مخلوط حکومت، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا انسداد جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔واضح ہو کہ امارت اسلامیہ نے 20 سال کی جنگ کے بعد امریکی قیادت والی افواج کی واپسی کے بعد اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔افغانستان جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی تجارتی اور ٹرانزٹ روٹ کے طور پر موجود ہے اور اس کے پاس اربوں ڈالر کے ایسے معدنی وسائل ہیں جنہیں ابھی تک استعمال ہی نہیں کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *