UN calls for release of Saudi woman sentenced to 34 years for tweetingتصویر سوشل میڈیا

ریاض:(اے یو ایس ) اقوام متحدہ نے سعودی عرب کی ایک خاتون کو،جسے حکومت مخالف ٹوئیٹ کرنے والوں کی ٹوئیٹ کو دوہرانے کے جرم میں 34سال کی سزائے قید سنا کر جیل بھیج دیا گیا، رہا کرنے کی پر زور اپیل کی ہے۔ واضح ہو کہ سعودی عرب کی ایک عدالت نے گذشتہ دنوں میڈیکل کی ایک طالبہ کو افواہیں پھیلانے اور حکومت کے مخالفین کی ٹوئیٹس کو ری ٹوئیٹ کرنے کے الزام میں34 برس قید کی سزا سنائی ہے۔اس فیصلے پر دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔سرگرم کارکن اور وکلا سلمہ الشہاب کو دی جانے والی سزا کو سعودی معیار انصاف کے لحاظ سے بھی تکلیف دہ قرار دے رہے ہیں۔ سلمہ دو بچوں کی ماں ہیں اور برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی میں ریسرچر ہیں۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے ک وہ اگرچہ قدامت پسند اسلامی ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کے حق اور دوسری آزادیاں دینے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں، لیکن انہوں نے اپنے مخالفین کی بیخ کنی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

واشنگٹن میں قائم حقوق انسانی کے ایک گروپ فریڈم انیشیٹو کا کہنا ہے کہ سلمہ کو 15 جنوری 2021 کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ تعطیلات گزار رہی تھیں اور برطانیہ واپسی کی تیاری کر رہی تھیں۔فریڈم انیشیٹو کا کہنا ہے کہ سلمہ الشہاب کا تعلق سعودی عرب کی شیعہ مسلم اقلیت سے ہے جو عرصے سے سنی حکمرانی والے ملک میں اپنے خلاف تفریق آمیز سلوک کی شکایت کرتی آرہی ہے۔گروپ کی جانب سے کیس منیجر بیتھنی آل حیدری کا کہنا ہے سعودی عرب دنیا کو تو بتاتا ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق بہتر بنارہا ہے۔ اور قانونی اصلاحات لا رہا ہے۔ لیکن اس نوعیت کی سزاو¿ں کے بعد اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ وہاں صورت حال مزید بد تر ہو رہی ہے۔ججوں نے الشہاب پر امن عامہ میں خلل ڈالنے اور معاشرے کے تارو پود کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کئے۔ جبکہ سرکاری چارج شیٹ کے مطابق یہ دعوے کلی طور سے سوشل میڈیا پر انکی سرگرمیوں کی بنیاد پر کئے گئے ہیں۔ریاض میں سعودی حکومت اور واشنگٹن اور لندن میں سعودی سفارت خانوں نے اس معاملے میں اپنا موقف دینے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *