بیجنگ: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ کے دورہ چین پر اویغور رہنما اس وقت بھڑک اٹھے جب مشل ایغوروں کی نسل کشی پر چینی حکومت کی مذمت یا ان واقعات کی تحقیقات کیے بغیر ہفتہ کو چین کا اپنا چھ روزہ دورہ ختم کر کے بیجنگ سے پرواز کر گئیں۔ ایغور رہنماؤں کے ردعمل پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مشیل نے کہا کہ ان کا یہ دورہ کوئی تحقیقات نہیں تھا اور اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے چینی حکام سے ملاقاتوں کے دوران وضاحت کے ساتھ بات کی۔
اسی دوران ورلڈ اویغور کانگرس کے صدر ڈولکن عیسیٰ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق چین اور مشرقی ترکستان میں نسل کشی پر حکومت کی مذمت کیے بغیر چلی گئیں۔ وہ کوئی پیغام دینے میں ناکام رہی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سنکیانگ صوبے کی واحد جیل کا دورہ کیا جہاں سیاسی جرائم کے مرتکب اویغوروں کو نہیں رکھا گیا تھا۔ دوسری جانب اویغور رہنما عیسی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے چین میں اویغور برادری کی نسل کشی کی تحقیقات کا ایک تاریخی موقع گنوا دیا۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ کا دورہ چین تحقیقات کا نہیں ہوگا بلکہ انسانی حقوق کے فروغ، تحفظ اور احترام کے لیے ہوگا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق گروپ کی سربراہ مشیل بیچلیٹ کے سنکیانگ کے دورے سے چینی حکومت کا راز کھل گیا۔اس میں اقلیتی اویغور کمیونٹی سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا جسے لیک کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ چینی حکام کی تقاریر بھی شامل تھیں جن میں اویغوروں کو دبانے اور سزا دینے کے منصوبے تھے۔ واضح ہو کہ چین کو اویغور سمیت دیگر اقلیتی برادریوں کے استحصال کے الزامات کا سامنا ہے اور اس کے لیے عالمی سطح پر اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 